لاپتہ افراد کے لیے سیل تشکیل دے دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سندھ بھر میں ڈی آئی جی آفسز میں اس سیل کے دفاتر قائم ہوں گے، جس کا سربراہ کم سے کم ایس پی سطح کا افسر ہو گا

پولیس نے سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے مسنگ پرسنز سیل تشکیل دے دیا گیا ہے، جس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی کرائم برانچ ہوں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہنواز طارق پر مشتمل ڈویژن بینچ میں لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے موقعے پر ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے ایک رپورٹ جمع کرائی ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے ایک میکنزم بنایا گیا ہے، جس کے تحت یہ سیل تشکیل دیا گیا ہے۔

سندھ بھر میں ڈی آئی جی آفسز میں اس سیل کے دفاتر قائم ہوں گے، جن کا سربراہ کم سے کم ایس پی سطح کا افسر ہوگا جو روزانہ کی بنیاد پر مقدمات کی تحقیقات کرے گا اور مقدمے کی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔

یہ سیل پولیس کے دیگر اداروں سی آئی ڈی، کرائم برانچ، سی آئی اے، سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل سے بھی معلومات لے سکیں گے۔

پولیس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اور رینجرز کو پابند کیا گیا ہے کہ کسی بھی علاقے میں چھاپے سے قبل متعلقہ مجسٹریٹ سے اس کی اجازت لے لی جائے۔

ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی اس رپورٹ کے مطابق آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے پیش آنے والے واقعات کے مقدمات بھی دائر کیے جائیں گے، جس کی بنیاد پر ان مقدمات کی تحقیقات ہوگی۔

دوسری جانب عدالت میں ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکن ذیشان کے والدین نے ایک خاکہ پیش کیا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ یہ خاکہ اس رینجرز اہلکار کا ہے جو ذیشان کو اپنے ساتھ لے گیا تھا، جس کے بعد سے اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ عدالت نے حکم جاری کیا کہ رینجرز کے متعلقہ اہلکار کو شامل تفتیش کیا جائے۔

عدالت نے پولیس کو حکم جاری کیا کہ ان مبینہ ملزمان کی جوائنٹ انٹیروگیشن رپورٹس عدالت میں پیش کی جائیں جن کو 90 روز کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے جس کے بعد سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں