شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل 21 اگست تک ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2012 میں پشاور میں کارخانوں کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی سماعت منگل کو فاٹا ٹریبیونل میں ہوئی لیکن کمشنر اور پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ریکارڈ پیش نے کرنے پر سماعت 21 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو فریقین نے فاٹا ٹریبیونل میں کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فریقین میں کمشنر پشاور ڈویژن، پولیٹکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پویٹکل ایجنٹ شامل تھے لیکن وہ منگل کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے بعد نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں دائر کی تھی جس میں کمشنر پشاور ڈویژن سے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلے میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر دی تھی۔

قمر ندیم کے مطابق اپیل کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں موقف کچھ اور تھا جس وجہ سے انھوں نے فاٹا ٹریبیونل میں نظر ثانی کی درخوست دی تھی۔

اس درخواست میں انھوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ، پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اور کمشنر پشاور ڈویژن کو ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی استدعا کی تھی۔

ٹریبیونل نے سماعت کے لیے منگل کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن وہ نہ خود پیش ہوئے اور نہ ہی ریکارڈ ٹریبیونل کے سامنے پیش کیا۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ کے مطابق آئندہ سماعت کے لیے 21 اگست کو ہو گی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2012 میں پشاور میں کارخانوں کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر بظاہر یہ الزام عائد تھا کہ وہ امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتے تھے لیکن خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیکل ایجنٹ کی جانب سے انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام پر دی گئی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گزشتہ سال 23 مئی کو 33 سال کی سزا سنائی گئی تھی اور ابتدا میں یہی کہا جاتا رہا ہے کہ انھیں امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی ہے لیکن ایک ہفتے کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری ہونے کے بعد یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے ساتھ روابط تھے اور وہ تنظیم کو فنڈز فراہم کرتے تھے۔

لشکر اسلام نے اس بیان کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ڈاکٹر دکیل آفریدی کو انھوں نے عوامی شکایت پر گرفتار کیا تھا اور پھر دو لاکھ روپے جرمانے ادا کرنے کے بعد رہا کر دیا تھا۔

اسی بارے میں