آصف زرداری کی جو بائیڈن سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی نائب صدر جو بائیڈن پاکستان میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں (فائل فوٹو)

واشنگٹن کے ذاتی دورے پر آئے ہوئے پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے منگل کو امریکہ کے نائب صدر جوزف بائیڈن سے ملاقات کی ہے.

یہ ملاقات ایک افطار ڈنر پر ہوئی جس کی میزبانی امریکہ میں مقیم پاکستانی رے محمود نے کی تھی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے رے محمود نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں وہ ہر برس مختلف مذاہب کے درمیان ایک مذاکرے کی میزبانی کرتے ہیں جس میں واشنگٹن کے تمام سیاستدان اور مذہبی شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ انہوں نے نائب صدر جو بائیڈن کو دعوت بھیجی تھی اور اس موقع پر آصف علی زرداری بھی واشنگٹن میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس افطار پارٹی میں سو سے زیادہ افرات نے شرکت کی جن میں دس بارہ کانگریس کے ارکان بھی تھے۔

رے محمود کا کہنا تھا کہ ’اس ملاقات کو سیاسی رنگ دینا غلط ہوگا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، اس افطار پارٹی میں نہ تو پاکستان کی بات ہوئی اور نہ ہی جمہوریت کی۔‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن پاکستان میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اور جس کیری لوگر بِل کے تحت پاکستان کو امریکہ نے ساڑھے سات ارب ڈالر دینا طے کیا تھا اس کی بنیاد بھی جو بائیڈن نے ہی رکھی تھی۔

رے محمود کے بھی امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں سے خاصے اچھے تعلقات ہیں اور وہ ان کے لیے انتخابی چندہ جمع کرنے کے لیے تقریبات بھی منعقد کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ مسٹر محمود نے بھی کیری لوگر بل کی منظوری میں کافی کردار ادا کیا تھا۔ زرداری حکومت کے دوران انہیں خصوصی سفیر یا ایمبیسیڈر ایٹ لارج کا عہدہ ملا ہوا تھا۔

پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں پر ان کی رائے پوچھے جانے پر رے محمود کا کہنا تھا کہ ’حالات پر فكر کرنا لازمی ہے کیونکہ نواز شریف حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کر رہی ہے لیکن جہاں تک جو بائیڈن اور آصف زرداری کی ملاقات کی بات ہے تو وہاں صرف مذہب اور اس سے منسلک پہلوؤں پر ہی بات ہوئی۔‘

پاکستانی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ مسٹر زرداری نواز شریف حکومت کی طرف سے کوئی سیاسی پیغام لے کر واشنگٹن آئے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر انہیں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے مکمل سفارتي پروٹوکول فراہم کیا گیا اور امریکہ میں پاکستان کے سفير جلیل عباس جیلانی ان کا استقبال کرنے کے لیے خود ایئر پورٹ بھی گئے۔

پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق صدر اور وزيرِاعظم کو سفارتي پروٹوکول دینے کی روایت پی پی پی حکومت کے دوران شروع ہوئی تھی اور موجودہ حکومت کے دوران بھی اسے جاری رکھا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر زرداری کا یہ دورہ مکمل طور پر ذاتی دورہ ہے اور پاکستانی سفارت خانے میں بھی ان کے لیے کسی خاص اجلاس کی تیاری نہیں ہے۔ واشنگٹن کے بعد آصف علی زرداری نیویارک بھی جائیں گے۔

اسی بارے میں