چوہدری افتخار کا عمران خان کو ہتکِ عزت کا نوٹس

Image caption ماضی میں عمران خان پر ریٹرنگ افسران کے خلاف ’شرمناک‘ کا لفظ استعمال کرنے پر کارروائی ہوئی تھی

پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آج تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کو مئی 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرنے پر 20 ارب روپے کے نوٹس بھیج دیے ہیں جن میں 15 ارب کا ہتکِ عزت کا دعویٰ ہے اور 5 ارب روپے ذہنی اذیت پہنچانے کی وجہ سے ہے۔

افتخار محمد چوہدری کے وکیل نصیر کیانی نے یہ نوٹس سپریم کورٹ کے احاطے میں آج میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

نوٹس میں عمران خان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے انتخابات کے بعد عدلیہ کے خلاف بےبنیاد اور من گھڑت الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ نوٹس میں عمران خان کی 26 جولائی 2013 کی اخباری کانفرنس کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے ریٹرنگ افسران پر دھاندلی کے الزامات لگائے تھے۔

سابق چیف جسٹس کے وکلا کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انھوں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان الزامات کو نظر انداز کیا لیکن بعد میں یہ ظاہر ہوگیا کہ عمران خان کے الزامات بھول چوک یا جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ انتخابات اور عدلیہ کی ساکھ کو کھوکھلا کرنے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔

ماضی میں عمران خان پر ریٹرنگ افسران کے خلاف ’شرمناک‘ کا لفظ استعمال کرنے پر کارروائی ہوئی تھی لیکن عدالت نے انھیں بری کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ظاہر ہوگیا کہ عمران خان کے الزامات بھول چوک یا جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ انتخابات اور عدلیہ کی ساکھ کو کھوکھلہ کرنے کی سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں

افتخار چوہدری کے وکلا نے اس مقدمے کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی 31 جولائی 2013 کی سماعت کے دوران عمران خان نے خود پیش ہو کر مستقبل میں عدلیہ کے خلاف توہین آمیز بیانات سے پرہیز کی یقین دہانی کروائی تھی۔

چوہدری افتخار نے نوٹس میں تحریک انصاف کی عام انتخابات پر شائع ہونے والی وائٹ پیپر جیسی رپورٹوں کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان رپورٹوں اور بیانات میں کہیں بھی ان کے ِخلاف کوئی شکایت یا الزام نہیں تھا۔ لیکن گذشتہ برس دسمبر میں افتخار چوہدری کے چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد عمران خان نے ان کے خلاف انتہائی ہتک آمیز زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔

’کئی عام محفلوں اور ٹی وی پروگراموں میں انھوں نے آ کر مجھ پر کھلم کھلا الزام لگایا کہ میں نے انتخابات میں ایک مخصوص جماعت کو کامیاب کرنے کی خاطر دھاندلی کروائی ہے۔‘

سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہرجانے کی رقم وہ ذاتی استعمال میں نہیں لائیں گے بلکہ کارِ خیر کے لیے دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے 14 روز کے اندر معذرت یا ہرجانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے۔

اس کے علاوہ انھوں نے اپنے آپ کو عمران خان کے خلاف ملک کے اندر اور باہر دیگر قانونی راستے اختیار کرنے کا مجاز قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں