پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد 102 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قلعہ عبداللہ میں جس بچی میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے اس کا خاندان چار ماہ قبل کراچی سے بلوچستان منتقل ہوا تھا۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ایک بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں رواں سال سامنے آنے والے پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد 102 ہو گئی ہے۔

بلوچستان میں گذشتہ 20 ماہ کے دوران پولیو کا یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے۔پولیو کے وائرس کی تصدیق کوئٹہ کے شمال میں افغانستان سے متصل سرحدی ضلع قلعہ عبد اللہ کے علاقے میزئی اڈہ میں 18ماہ کی ایک بچی میں ہوئی ہے۔

بلوچستان کے سیکریٹری صحت ارشد بگٹی نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ جس بچی میں پولیو کا وائرس پایا گیا ہے اس کا خاندان چار ماہ قبل کراچی سے یہاں منتقل ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے بلوچستان روانگی کے وقت اس بچی کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے لیکن یہاں اس کے والدین نے اسے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بچی کی والدہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسے یہاں پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے گئے۔

بلوچستان میں 2011 تک بڑے پیمانے پولیو کے کیسز رپورٹ ہوتے رہے تھے جس پر صحت سے متعلق بین الاقوامی اداروں نے شدیدتشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم گزشتہ 20 ماہ کے دوران یہاں سے پولیو کا کوئی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

قلعہ عبد اللہ میں سامنے آنے والے نئے کیس سے قبل حکام بلوچستان کو پولیو فری قرار دیتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ جب تک افغانستان میں پولیو پر قابو نہیں پایا جاتا اس وقت تک افغانستان سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر یہاں آمد رفت کے باعث اس کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

اس کے پیش نظر اس ماہ کے اوائل میں بلوچستان میں دونوں ممالک کے حکام کا ایک مشترکہ اجلاس کوئٹہ میں ہوا تھا۔

بلوچستان کے وزیر صحت رحمت بلوچ نے بتایا کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں پولیو کے خلاف مشترکہ مہم چلانے کے لیے کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔

بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں سےجو بچے یہاں سے افغانستان جاتے ہیں ان کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جاتے ہیں تاہم افغانستان سے جو بچے وہاں سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں ان کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے جاتے۔

وزیراعظم کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے قائم کردہ پیی، ایم پولیو مونیٹرنگ سیل کےمطابق 21 جولائی تک ملک میں پولیو کے 99 کیسز رجسٹرڈ ہوئے تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2014 میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 102 ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ برس کے دوران دنیا بھر میں پولیو کےسب سے زیادہ کیسز پاکستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ پولیو کے باعث حال ہی میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستانیوں پر کچھ سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کے اقدامات کے باوجود لاہور، کوئٹہ اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں کے ماحولیاتی نمونوں سے بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

اسی بارے میں