’خبردار ورنہ گولی مار دی جائے گی‘

Image caption باچاخان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پشاور کی باونڈری وال پر ایسی ہی ایک تحریر شدہ وال چاکنگ دکھائی دیتی ہے جس میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’ علاقہ ممنوع، داخل نہ ہو ورنہ گولی مار دی جائے گی‘

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں بعض اہم اور حساس مقامات کی دیواروں پر ایسی وال چاکنگ نظر آتی ہے جس میں عجیب و غریب اور سخت قسم کے دھمکی آمیز الفاظ تحریر کیے گئے ہیں۔

باچاخان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پشاور کی باونڈری وال پر ایسی ہی ایک تحریر شدہ وال چاکنگ دکھائی دیتی ہے جس میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’ علاقہ ممنوع، داخل نہ ہوں ورنہ گولی مار دی جائے گی‘۔

اس دیوار پر کچھ فاصلے سے قریب سرخ رنگ سے ایک اور وال چاکنگ بھی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے ’ خبردار علاقہ ممنوع داخلے پر گولی مار دی جائے گی۔‘

یہ وال چاکنگ ایسی جگہ پر کی گئی ہے جہاں ایئر پورٹ کی حدود شروع ہوتی ہے اور اسی جگہ سے یونیورسٹی روڈ کی مرکزی شاہراہ بھی گزرتی ہے جہاں گاڑیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کا بھی پیدل آنا جانا رہتا ہے۔ تاہم اس مقام سے ایئر پورٹ کےلیے کوئی راستہ نہیں جاتا ہے۔

پشاور کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خوا کے دیگر شہروں میں بھی اہم سرکاری عمارات اور حساس تنصیبات پر ایسی تحریر نظر آتی ہے جس میں لوگوں کو قریب سےگزرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ خلاف ورزی پر گولی مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شاید پشاور ایئر پورٹ پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے باعث یہ وال چاکنگ کی گئی تاکہ حملہ آوروں کو پہلے سے نہ صرف خبردار کیا جاسکے بلکہ انھیں سکیورٹی فورسز کی موجودگی کا احساس بھی دلایا جاسکے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک میں جب جنگ جیسی حالت ہو تو اس قسم اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔

تاہم شدت پسندی پر کام کرنے والے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس میں شک نہیں کہ سکیورٹی فورسز اس وقت حالت جنگ میں ہیں اور انھیں مشکلات کا بھی سامنا ہے لیکن ان کی جانب سے ایک غیر ضروری اقدام عوام میں ان کا تاثر خراب بھی کرسکتی ہے۔

پشاور کے سینئیر صحافی اور مصنف عقیل یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پشاور جیسے بڑے شہر میں عوامی مقامات کے قریب ایسی وال چاکنگ یقینی طورپر حیران کن بات لگتی ہے۔

ان کے مطابق ’ ہماری افواج اور مقتدر اداروں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ ایسے اقدامات سے نہ تو دہشت گرد حملوں کو روکا جاسکتا ہے اور نہ شدت پسندوں کو کوئی فرق پڑتا ہے بلکہ اس سے الٹا عوام میں سکیورٹی فورسز کا امیج خراب ہونے کا خدشہ ہے۔‘

عقیل یوسف زئی کا کہنا تھا کہ پشاور کے لوگ پہلے ہی دہشت گردی اور شدت پسندی کے ستائے ہوئے ہیں اور ایسے میں اس قسم کے الفاظ ان کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں