حقانی نیٹ ورک کو دوبارہ منظم نہ ہونے دیا جائے: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حقانی نیٹ ورک حالیہ برسوں میں پاک افغان سرحدی علاقے میں سرگرم رہا ہے۔

امریکہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے بعد بھی حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو دوبارہ اپنی روایتی پناہ گاہوں میں واپس آنے نہ دے۔

خیال رہے کہ حقانی نیٹ ورک حالیہ برسوں میں پاک افغان سرحدی علاقے میں سرگرم رہا ہے۔

امریکہ، حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کی افواج اور افغان شہریوں پر مہلک اور منظم ترین حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے اور پاکستان سے اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اس کا پرانا مطالبہ رہا ہے۔

امریکی شہر کولوراڈو میں ہونے والے سکیورٹی کے متعلق ایک بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سینیئر اہلکار جیفری ایگرز نے کہا کہ امریکہ نے پاکستانی فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کی دوبارہ انہی علاقوں میں واپسی کے خدشے سے آگاہ کردیا ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم نے سنا ہے کہ وہ اچھے اور برے طالبان کا امتیاز نہیں کریں گے۔ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ آپریشن کس طرح سے جاری رہتا ہے اور جب یہ آپریشن حتمی مرحلے میں داخل ہوگا تو کیا حقانی نیٹ ورک کے لوگ پھر سے اپنی پناہ گاہوں میں واپس تو نہیں آجائیں گے؟‘

ان کا کہنا تھا ’ہم یہی دیکھ رہے ہیں اور یہی ہم نے حکومت پاکستان سے کہا بھی ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو اپنی پناہ گاہیں چھوڑنا پڑی ہیں اور وہ متاثر بھی ہوئے ہیں مگر انھیں دوبارہ سے اپنے پرانے علاقوں میں واپس آنے اور منظم ہونے کی اجازت نہ دی جائے اور ہم اسی بات پر بہت فکرمند ہیں۔‘

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شمالی وزیرستان میں پچھلے ماہ شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران اب تک حقانی نیٹ ورک کے کسی جنگجو کے ہلاک ہونے کی خبر نہیں آئی۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے سکیورٹی فورم سے اپنے خطاب میں اسی مؤقف کو دہرایا۔

انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی حقانی نیٹ ورک کے لوگ علاقے سے نکل گئے ہوں گے کیونکہ فوجی کارروائی کے فیصلے کا سب کو علم تھا۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ حقانی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے لوگ علاقہ چھوڑ کے چلے گئے ہوں گے کیونکہ اس وقت تک یہ بات کوئی راز نہیں رہی تھی کہ آپریشن شروع ہونے جا رہا ہے۔‘

پاکستانی سفیر نے کہا کہ شمالی وزیرستان کو حقانی نیٹ ورک سمیت پوری دنیا سے آنے والے دہشت گرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہ قرار دیا جاتا رہا ہے اور اب جبکہ وہاں فوجی آپریشن جاری ہے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نیٹو اور افغانستان پاکستان کے ساتھ تعاون کریں۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے نکتہ نظر سے اہم چیز یہ ہے کہ ان تمام قوتوں کی استعداد اور طاقت کو محدود اور ختم کیا جائے جو شمالی وزیرستان میں جمع تھیں اور میرا خیال ہے کہ ہم اسی سمت میں بڑھ رہے ہیں تو بجائے اسکے کہ اس آپریشن کے نتائج کے بارے میں پہلے سے اندازے لگائے جائیں اور خدشات کا اظہار کیا جائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ تینوں فریقوں کے درمیان قریبی تعاون ہو۔ جن میں امریکہ، نیٹو، پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔‘

تاہم خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکہ میں افغانستان کے سفیر حکیمی نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کو محفوظ راستہ دیا گیا اور وہ پاکستان ہی میں دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک رکھے ہیں اور وہ تبھی جاری ہوسکتے ہیں کہ اگر امریکہ کے وزیر دفاع اس بات کی تصدیق کردیں کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارگر کارروائی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں