پاکستانیوں کا کے ٹو سر کرنا کیوں اہم ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Ev K2 CNR
Image caption اس مہم کا اہتمام کے ٹو سر کرنے کی ساٹھویں سالگرہ کے جشن کے طور پر کیا گیا

چوٹی سر کرنا انتہائی مشکل کام سمجھا جاتا ہے اِسی لیے کہتے ہیں کہ فُلاں کام کر کے آپ نے کوئی چوٹی سر کی لی؟ لیکن چھ پاکستانی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے واقعی دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی یعنی کے ٹو سر کر لی ہے۔

پاکستان میں اِس مہم کے رابطہ کار اور اطالوی ادارے ایورسٹ کے ٹو سی این آر کے نمائندے منیر احمد نے بتایا کہ دراصل کے ٹو سر کرنے والی ٹیم میں موجود ممبران اِس سے قبل کوہ پیما نہیں بلکہ پورٹرز تھے جو سیاحوں یا کوہ پیماؤں کا سامان اُٹھا کر کیمپ فور تک جاتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اِس مہم پر جانے سے قبل آگسٹینو دا پولینزا کی سربراہی میں چلنے والے اطالوی ادارے ایورسٹ کے ٹو سی این آر نے اِن پورٹرز کو روپنگ یعنی رسیوں کی مدد سے راستہ طے کرنے اور دیگر مہارتوں کی تربیت دی اور مہم جوئی کے لیے ضروری سامان مہیا کیا۔

’پہلی بار چھ پاکستانی کے ٹو پر پہنچے‘

یاد رہے کہ اس مہم کا اہتمام کے ٹو سر کرنے کی ساٹھویں سالگرہ کے جشن کے طور پر کیا گیا جسے اُنیس سو چون میں آج ہی کے دن اطالوی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے پہلی بار سر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ev K2 CNR

اِس ادارے نےآخر ایسا کیوں کیا ؟ کیا مفاد وابستہ ہے اطالوی ادارے کا؟

منیر احمد نے بتایا کہ قراقرم کے پہاڑوں سے اٹلی کی محبت کے سو سال بھی مکمل ہوئے ہیں۔

اُن کے مطابق اُنیس سو نو میں اٹلی کے شہزادے ابروزی نے کے ٹو سر کرنے کی کوشش کی تھی تاہم ناکامی کے بعد اُنھوں نے قراقرم کے پہاڑی سلسلے اور خاص کر کے ٹو کے بارے میں دیومالائی داستانوں کا مطالعہ کیا اور واپس جا کر اِس علاقے کے بارے میں تحقیق کی۔

منیر احمد نے بتایا کہ اِس کے بعد اُنیسں سو تیرہ میں ایک اور اطالوی سیاح اور محقق فلیپو دی فلیپی یہاں آئے اور دو سال یہاں اپنے قیام کے دوران اُنھوں نے نہ صرف یہاں کی سماجیات بلکہ معاشیات اور ارضیات پر تحقیق کی اور یہاں کی تصاویر واپسی پر اپنے ساتھ لے گئے اور یورپ میں باقاعدہ اِس پہاڑ کو متعارف کرایا۔

ان کے مطابق اِس بعد انیس سو چون میں اطالوی ٹیم یہاں آئی اور اس نے پہلی بار یہ چوٹی سر کی جو ہے تو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی لیکن کوہ پیما اِسے سر کرنا مشکل ترین گردانتے ہیں۔

مہم کے رابطہ کار منیر احمد نے بتایا کہ کوہ پیمائی کی اس مہم کے دوران کے ٹو پر ایک کلائمیٹ آبزرویٹری یعنی موسم کی تبدیلیوں کا پتہ دینے والا مقام بنایا گیا جس میں حکومت پاکستان کے متعلقہ ادارے بھی شامل ہوں تاکہ اُس سے موصول ہونے والی معلومات سے واپڈا اور محکمہ موسمیات کو یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ قراقرم کے علاقے میں کون سی موسمیاتی تبدیلی آرہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ev K2 CNR
Image caption آزاد کشمیر یونیورسٹی اور ایک اطالوی یونیورسٹی کے اشتراک سے جی پی ایس کی تربیت کوہ پیماؤں کو دی گئی

منیر احمد کے مطابق اِس کے علاوہ کے ٹو کلین پراجیکٹ پر بھی کام ہوا جو گذشتہ چھ برس سے اُن کی تنظیم اِس علاقے میں کر رہی ہے۔ اِس میں کے ٹو کی براڈ پیک سمیت کئی چھوٹی چوٹیوں پر سے کچرا جمع کر کے اُسے اسکولے کے مقام پر تلف کیا گیا۔

اِس کے علاوہ جو اہم کام اِس مہم کے دوران کیا گیا وہ یہ کوہ پیماؤں کو اِس کام کی بھی تربیت دی گئی کہ کس طری جی پی ایس کی مدد سے کے ٹو کی چوٹی کی پیمائش دوبارہ سے کرنی ہے۔ کوہ پیماؤں کو پیمائش کی تربیت آزاد کشمیر یونیورسٹی اور ایک اطالوی یونیورسٹی کے اشتراک سے دی گئی۔

منیر احمد نے بتایا کہ چند دن بعد جب یہ کوہ پیما واپس آئیں گے تو اُن کی پیمائیشوں کی بنیاد پر دنیا کو یہ معلوم ہو سکے گا کہ کے ٹو کی آج کی تاریخ میں اصل پیمائش کیا ہے۔

اسی بارے میں