’دائیں بازو کی پاکستانی صحافت کا باب ختم‘

تصویر کے کاپی رائٹ The Nation
Image caption مجید نظامی تقریباً پچاس سال صحافت کی دنیا سے منسلک رہے

پاکستان کے معروف صحافی اور نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر ان چیف مجید نظامی کو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ وہ گذشتہ شب لاہور میں 86 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

وفاقی اور پنجاب حکومت نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مجید نظامی پچھلے تین ہفتوں سے دل کی تکلیف کے باعث لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ انھیں جمعرات کو سینیئر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ونٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا تھا۔

لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح میانی صاحب قبرستان میں جب مجید نظامی کو سپرد خاک کیا گیا تو ان کے ساتھ نصف صدی پر محیط دائیں بازو کی پاکستانی صحافت کے ایک باب کا اختتام ہوگیا۔

انھوں نے بتایا کہ نظامی صاحب کی نماز جنازہ اور تدفین میں گورنر پنجاب چودھری سرور اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت بڑی تعداد میں اہم شخصیات نے شرکت کی۔

ان کی پچاس سالہ صحافت کا مرکز پاکستان کا اسلامی تشخص اور بھارت دشمنی رہا۔ ایک موقع پر انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ انھیں ایٹم بم سے باندھ کر انڈیا پھینک دیا جائے۔

مجید نظامی تین اپریل 1928 میں پیدا ہوئے۔

مجید نظامی تقریباً پچاس سال صحافت کی دنیا سے منسلک رہے۔

معروف سینیئر صحافی اور نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر ان چیف نے زمانہ طالب علمی میں پاکستان موومنٹ میں بھرپور حصہ لیا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق آزادی پاکستان میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے ان کو مجاہدِ تحریکِ پاکستان کے ایوارڈ سے نوازا۔ ان کے پسماندگان میں ان کی لے پالک بیٹی شامل ہے جنھوں نے نوائے وقت گروپ کے ایڈیٹر ان چیف کے طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے۔