پاکستان میں آج سرکاری طور پر عیدالفطر منائی جا رہی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عید کے اجتماعات کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت اتنظامات کیے گئے

پاکستان میں ماہِ رمضان کے اختتام پر آج یعنی منگل کو عیدالفطر منائی جا رہی ہے۔ سرکاری طور پر عید منانے کا اعلان مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین نے پیرکی شام کو کیا تھا۔

ملک کے قبائلی علاقوں، صوبہ خبیر پختون خوا کے بعض شہروں کے علاوہ، مشرقِ وسطیٰ مشرقِ بعید اور دیگر مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں نے پیر کو عیدالفطر منائی تھی۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق ملک بھر میں عیدالفطر جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں بڑے بڑے اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔

عید کے اجتماعات کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت اتنظامات کیے گئے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف پہلے ہی سعودی عرب میں عید منا چکے ہیں اور سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق انھوں نے عید کی نماز پیر کو مسجدِ نبوی میں ادا کی تھی۔

صوبہ خیبر پختون خوا کی حکومت نے پیر کو صوبے میں عید نہ منانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکمران جماعت کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے شمالی وزیرستان کے متاثرہ افراد کے ساتھ پیر کو عید منائی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق عید کے موقع پر اپنے پیغام میں نواز شریف نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں گروپوں کے خلاف برسرِ پیکار پاکستانی فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔

انھوں نے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب کی وجہ سے بے گھر افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’اصل خوشی تب ہوگی جب نقل مکانی کرنے والوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہوگی۔‘

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف برسرِ پیکار سکیورٹی فورسز کے ساتھ منانے کے لیے شمالی وزیرستان گئے ہیں۔

ادھر خیبر پختونخوا میں ایک مرتبہ پھر عید کا چاند متنازع رہا۔ پشاور سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں کسی نے پیر کو عید منائی تو کسی نے روزہ رکھا اور آج عید منا رہے ہیں۔

پشاور میں غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے اتوار کی رات دیر سے شوال کا چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہونے کے بعد پیر کو عید منانے کا اعلان کیا تھا۔

عام تاثر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں یہ اختلاف صرف رمضان، شوال اور بقرعید کے موقع پر ہی ہوتا ہے باقی نو مہینوں میں یہ اِختلاف کہیں نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے شرعی حوالے سے جائز شہادتیں موصول ہوتی ہیں تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی ان شہادتوں کو تسلیم کیوں نہیں کرتی؟

اسی بارے میں