خیبر پختونخوا: پولیس پر حملوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا میں پولیس کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں پولیس کے خلاف حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گذشتہ 12 سالوں کے دوران 1100 سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

پشاور سمیت صوبے میں بیشتر اہم چوکیاں، تھانے اور چوراہے بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے نام سے منسوب کی گئی ہیں۔

سپاہی گل نواز بھی ان پولیس اہلکاروں میں شامل ہیں جن کی ہلاکت کے بعد ان کے نام پر پولیس چوکی قائم ہے۔

سپاہی گل نواز نے پشاور کے علاقے صدر میں ایک خود کش حملہ آور کو روکنے کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی۔ یہ واقعہ سنہ 2009 میں پیش آیا تھا۔

سابق حکومت نے گل نواز کو بعد مرنے کے تمغۂ شجاعت سے نوازا تھا لیکن ان کے بھائی صوبیدار میجر ریٹائرڈ حاجی فیروز خان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بھائی پر فخر ہے لیکن تمغوں یا تعریفوں سے پیٹ نہیں بھرتے۔

انھوں نے کہا ’ان کے بھائی کی چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں، سب سے بڑا لڑکا دسویں جماعت میں پڑھ رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے جو وعدے اور دعوے کیے گئے تھے ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا میں پولیس کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر شہروں میں اہم تھانے، چوکیاں اور چوراہے ان پولیس اہلکاروں کے نام سے منسوب ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

پشاور کی یونیورسٹی روڈ پر واقع ٹاؤن تھانے کے سامنے والا چوک صفوت غیور ایوینیو کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سورے پل اور پشاور پولیس لائن ڈی آئی جی ملک سعد کے نام سے جانے جاتے ہیں اسی طرح سوات کا خونی چوک ایک ڈی ایس پی اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دبئی ہوٹل چوک انسپکٹر ہیب علی کے نام سے منسوب ہیں۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد احسن نے بی بی سی کو بتایا ’چوکیاں اور تھانے پولیس افسران اور اہلکاروں کے نام سے منسوب کرنے کا مقصد ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ دنیا میں اہم مقامات کی نشاندہی تاریخی یا علاقے کی تہذیب کے حوالے سے جانی جاتے ہیں لیکن ہمارا المیہ ہے کہ یہاں بڑی تعداد میں ایسے مقامات ہیں جہاں یہ دھماکے یا ہلاکتیں ہوئیں جو یہاں کی شناخت بن چکے ہیں۔

صوبے خیبر پختونخوا کے مقامی افراد باہر سے آنے والے مہمانوں کو شہر کی سیر کراتے وقت یہ ہی بتاتے ہیں کہ یہاں خود کش دھماکہ ہوا تھا جس میں اتنے افراد ہلاک ہو گئے تھے، بشیر بلور کو یہاں مارا گیا تھا، ایس پی خورشید خان کو اس چوکی میں قتل کیاگیا اور صفوت غیور کو صدر میں اس جگہ ایک خود کش حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں