کراچی: سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی بحریہ کا ایک ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بدھ کے روز کلفٹن کے ساحل پر 20 افراد سمندر میں نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ امدادی اور تلاش کی کارروائیوں میں بحریہ کے ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق یہ واقعہ کلفٹن کے علاقے میں سی ویو کے ساحل کے قریب پیش آیا ہے، جہاں آج مزید سات افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

سینیئر پولیس افسر عبادت نثار نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بدھ کی شام پولیس نے ساحل سے تین لاشیں برآمد کیں جس کے بعد تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا:

’ہم نے ساحل پر موجود پک نک منانے والے افراد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ڈوبنے والوں کی تعداد ہمارے خدشات سے کہیں زیادہ ہے۔ لوگوں نے ہمیں اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے بارے میں بتایا جو سمندر میں تیرنے گئے تھے لیکن ڈوب گئے۔‘

ایک اور عہدے دار شعیب احمد صدیقی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 19 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ چار افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔‘

ساحل پر کئی ایمبولنسیں کھڑی ہوئی ہیں اور وہاں لاپتہ ہونے والے افراد کے رشتے دار جمع ہیں۔

ان ہلاکتوں کے باوجود جمعرات کو بھی سینکڑوں لوگ ساحل پہنچے جہاںسمندر میں تیرنے کی اجازت نہ ملنے پر ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ ایک پولیس اہلکار فہد علی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہم لاشیں نکال رہے ہیں اور پھر بھی یہ ہم سے لڑ رہے ہیں کہ وہ سمندر میں جا کر تیرنا چاہتے ہیں۔ یہ بےوقوفی کی انتہا ہے۔‘

کراچی میں عید کے دوسرے روز ہزاروں افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سمندر کے ساحل پر سیر و تفریح کے لیے آئے تھے۔

یہ ہلاکتیں اس کے باوجود پیش آئیں کہ شہر کی انتظامیہ نے سمندری لہروں میں طغیانی کے باعث ساحل پر سیکشن 144 کے تحت پانی میں اترنے یا تیراکی کرنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔

اس کے علاوہ کراچی کے کمشنر نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ سمندر میں نہ اتریں کیونکہ لہروں میں شدت کی وجہ سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں