200 ارب ڈالر: ’سوئس حکومت سے مذاکرات اگست میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت معاشی صورتحال ابتر تھی‘

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ سوئزرلینڈ سے 200 ارب ڈالر ملک لانے کے لیے سوئس حکام کے ساتھ بات چیت اگست میں کی جائے گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر خزانہ نے کہا کہ مذاکرات کئی مراحل میں ہوں گے اور یہ رقم پاکستان لانے میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی اس وقت معاشی صورتحال ابتر تھی۔

انھوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے پیشن گوئی کی تھی کہ پاکستان 2014 میں دیوالیہ ہوجائے گا۔ تاہم حکومت نے اچھی کارکردگی سے ثابت کیا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے بھی کہا تھا کہ حکومت پاکستانی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر سوئس بینکوں میں رکھے گئے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

انھوں نے ایوان کو بتایا کہ کابینہ نے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان موجودہ ٹیکس معاہدے پر نظرِ ثانی کی منظوری دے دی ہے۔

ان کے مطابق اس معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کے اقدام سے ان پاکستانیوں کی نشاندہی ہوگی جن کی سوئس بینکوں میں غیر قانونی طور پر رقوم رکھی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں