کرم ایجنسی: عمائدین کی گرفتاری کے خلاف دھرنے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption قبائل نے موجودہ پولیٹکل انتظامیہ کی تبدیلی اور متفقہ انجمن حسینیہ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا

پاکستان کے قبائلی علاقے کُرم ایجنسی میں توری قبائل کی جانب سے شیعہ عالم دین کی علاقہ بدری اور مقامی عمائدین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر علاقے میں کشیدگی کے باعث بعض مقامات پر ٹل پارہ چنار شاہراہ غیر اعلانیہ طور پر بند ہوگئی ہے۔

کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقامی توری قبائل کی جانب سے مطالبات کے حق میں عید الفطر سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں شہر کے تین مقامات پر دھرنے دیے جا رہے ہیں۔

قبائل کا مطالبہ ہے کہ پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے جامعہ مسجد پارہ چنار کے پیش امام علامہ محمد نواز عرفانی کے علاقہ بدری کے احکامات واپس لیے جائیں اور گرفتار کیے جانے والے قبائلی مشران کو بھی فوری طور پر رہا کیا جائے۔

قبائل نے موجودہ پولیٹکل انتظامیہ کی تبدیلی اور متفقہ انجمن حسینیہ کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔

توری قبائل قومی کمیٹی کے ترجمان حامد حسین حسینی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مقامی انتظامیہ نے عید الفطر کے روز پرامن مظاہرین کے خلاف آنسو گیس استعمال کی اور ہوائی فائرنگ کی جس سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سے علاقے میں حالات پھر سے کشیدہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے متبنہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نے کیے گئے تو قبائل انتہائی اقدام پر مجبور ہو جائیں گے۔

مظاہرین کا تعلق پارہ چنار سے منتخب رکن قومی اسمبلی ساجد حسین توری کے گروپ سے بتایا جاتا ہے۔

ادھر پارہ چنار میں کشیدگی کے باعث ٹل پارہ چنار شاہراہ عام ٹریفک کے لیے غیر اعلانیہ طورپر بند ہوگئی ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی انتظامیہ نے لوئر کرم سے پارہ چنار تک مرکزی سڑک پر چیکنگ سخت کردی ہے اور دھرنے میں شرکت کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ علاقے میں کشیدگی کے باعث ٹل پارہ چنار شاہراہ بھی غیر اعلانیہ طور پر بند ہوگئی ہے۔

دریں اثناء لوئر کرم ایجنسی کے علاقے صدہ سب ڈویژن میں سنی قبائل کا ایک نمائندہ جرگہ منعقد ہوا جس میں پارہ چنار میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

جرگہ اراکین کے مطابق قبائلی علاقوں میں احتجاج اور دھرنوں سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کےلیے انتطامیہ سے مذاکرات کیے جاتے ہیں تاکہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ کرم ایجنسی میں بڑی جدوجہد کے بعد امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے لہٰذا اس سلسلے میں تمام قبائل کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جرگے میں اہل سنت والجماعت کے چھ قبیلوں کے مشران نے شرکت کی۔

خیال رہے کہ کرم ایجنسی میں حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گزشتہ سال مئی میں عام انتخابات کے نتیجے میں پارہ چنار سے ساجد حسین توری رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ تاہم ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار ریٹائرڈ ایئر مارشل قیصر حسین نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد شیعہ قبائل دو گروپوں میں تقسیم ہوگئے۔

اس تقسیم کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہونا شروع ہوئے جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے شیعہ قبائل کی نمائندہ تنظیم انجمن حسینیہ پر پابندی لگائی اور ان کے تمام اکاؤنٹس منجمد کردیے جبکہ جامعہ مسجد کے عالم دین محمد نواز عرفانی کو علاقہ بدر کرکے علاقے کے کئی مشران کو بھی گرفتار کر لیا تھا۔

اسی بارے میں