سوات کے قدیم شہر بازیرہ کو وسائل کی کمی کا سامنا

Image caption خدشہ یہ ہے کہ ایک سال بعد، اگر حکومتِ خیبر پختونخوا نے زمین نہ خریدی یا وسائل نہ ہوئے تو 30 سال کی محنت ضائع ہو سکتی ہے

پاکستان کی صوبے خیبر پختونخوا کی وادیِ سوات میں واقع قدیم شہر بازیرہ کے علاقے میں جسے آج کل بریکوٹ کہتے ہیں، کانسی کے دور سے لے کر اسلام کے ابتدائی زمانے تک مسلسل شہر آباد رہے ہیں۔

سکندرِ اعظم نے بھی اس شہر پر قبضہ کیا تھا۔ یہاں اسیری، بدھ مت، یونانی اور ہند یونانی لوگ آباد رہے ہیں۔

ڈاکٹر لوکا ماریا اولوئری نے بڑی تیزی سے چٹان پر چڑھ کر مجھے اس قدیم شہر بازیرہ کے طول و عرض کے بارے میں بتایا۔ میں ہانپتی کانپتی ہوئی ان کے پیچھے پیچھے پہنچی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ابھی تک بازیرہ شہر کا صرف دس فیصد حصہ ہی کھودا گیا ہے، یعنی دس ہزار مربع میٹر۔

ڈاکٹر اولوئری اطالوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہیں جو گذشتہ 30 برس سے وادی سوات میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا خاص پروجیکٹ برِصغیر کا سب سے وسیع ہند یونانی شہر بازیرہ ہے، جسے پہلی بار سنہ 1955 میں دریافت کیا گیا تھا۔ اس شہر کا ذکر یونانی تاریخ دانوں نے بھی اپنی کتابوں میں کیا ہے۔

Image caption اطالوی حکومت بازیرہ کی کھدائی کے لیے گذشتہ 30 برس سے وسائل فراہم کرتی رہی ہے تاہم اگلے سال سے حکومتِ پاکستان کو اس کے لیے خود وسائل فراہم کرنے پڑیں گے

سوات کے عجائب گھر کے منتظم فیض الرّحمان نے اس شہر کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں سکندرِ اعظم کی آمد کا ثبوت اس شہر سے ملتا ہے۔

’بازیرہ بریکوٹ کا قدیم نام ہے اور 327 قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کی افواج نے پہلے اس شہر پر قبضہ کر کے پھر آگے اڈی گرام پر قبضہ کیا۔‘

اطالوی حکومت کی جانب سے اس اہم شہر کی کھدائی کے لیے وسائل فراہم ہوتے رہے ہیں لیکن 2015 میں یہ وسائل ختم ہو جائیں گے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ حکومتِ خیبر پختونخوا سے ان کھنڈرات کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر لوکا کے ساتھ 25 سال سےکام کرنے والے گائیڈ اور کارکن فضل عظیم کو حکومتِ پاکستان سے زیادہ امید نہیں ہے۔ ’میرے خیال میں پاکستان کے پاس نہ پیسہ ہے اور نہ ہی دلچسپی ہے۔ جو مقامات حکومت نے سنبھالے ہوئے ہیں، وہ بہت خراب حال میں ہیں۔ ان کو صحیح طریقے سے محفوظ نہیں رکھا گیا جیسے اطالویوں نے بازیرہ کو رکھا ہے۔‘

تپتی دھوپ میں ڈاکٹر لوکا اپنے کارکنوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ کام بند ہونے سے پہلے، اس قدیم شہر کے باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیے مٹی نکالی جا رہی ہے اور پانی کی نکاسی کی جا رہی ہے۔ گنے چنے کارکن ہی ہیں، جب باقاعدہ کھدائی ہوتی ہے تو 50 لوگ یہاں ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر لوکا نے بتایا کہ اس شہر میں اب تک دو رہائش گاہیں، کئی عبادت گاہیں اور چھوٹا قلعہ کھودا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کانسی کے دور سے لے کر سوات میں اسلام کے ابتدائی زمانے تک کے کچھ نودارات میں سے بدھ متوں کے بت، سینکڑوں مٹی کے برتن اور زیورات ملے ہیں جن کی نمائش سوات کے عجائب گھر میں کی گئی ہے۔

Image caption ’اگر آپ کو سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہو تو ہر تہہ کی الگ سے کھدائی کرنی پڑتی ہے۔ ہر پہلوں کا ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے‘

مگر اس کام پر 30 برس کیوں لگے؟ اس پر ڈاکٹر لوکانے بتایا کہ وجہ یہ ہے کہ یہاں سات تہذیبوں کے شہروں کے آثار ملے ہیں جو تہہ در تہہ ایک دوسرے کے اوپر بنے ہوئے تھے۔

’ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تھا اور شہر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹیلا سا بنتا گیا۔ تو اگر آپ کو سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہو تو ہر تہہ کی الگ سے کھدائی کرنی پڑتی ہے۔ ہر پہلوں کا ریکارڈ رکھنا پڑتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ علمِ آثارِ قدیمہ ایسی سائنس ہے جس کے لیے دنیا بھر میں وسائل کی کمی رہتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس زمین پر بازیرہ شہر کے باقیات موجود ہیں اس پر اطالوی حکومت سوات کے چار زمینداروں کو کرایہ دیتی رہی ہے۔ ڈاکٹر لوکا کہتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ اس اہم مقام کو محفوظ رکھنے کے لیے زمین خریدی جائے۔

سوات عجائب گھر کے ناظم فیض رحمان کا کہنا ہے کہ حکومتِ خیبر پختونخوا ان کھنڈرات کو محفوظ رکھنے کے لیے پرعظم ہے۔ ’دسمبر میں وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک سوات آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ جتنے بھی تاریخی مقامات کے لیے زمین خریدنی ہے، اس کے لیے منصوبہ بندی کی جائے اور بجٹ بنایا جائے۔ یہ عمل بہت جلد شروع ہو گا۔‘

Image caption ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ شہر کے ٹوٹے ہوئے اینٹوں کے خدوخال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 2400 سال پہلے زلزلے کی وجہ سے شہر خالی ہو گیا تھا

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ شہر کے ٹوٹی ہوئی اینٹوں کے خدوخال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ 2400 سال پہلے زلزلے کی وجہ سے شہر خالی ہو گیا تھا۔ خدشہ یہ ہے کہ ایک سال بعد، اگر حکومتِ خیبر پختونخوا نے زمین نہ خریدی یا وسائل فراہم نہ کیے گئے تو 30 سال کی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں