باجوڑ:’سرحد پار سے ایک اور حملہ، ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption باجوڑ ایجنسی میں سرحد پار افغاستان سے شدت پسندوں کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوآ،آئی ایس پی آر۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سرحد پار افغاستان سے ہونے والے شدت پسندوں کے حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی دوپہر افغانستان سے مسلح عسکریت پسندوں نے پاکستانی علاقے’ غاخی پاس‘ کے قریب حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک ہوا۔ تاہم بیان میں واقعے کے حوالے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں ہیں۔

یاد رہے کہ پاک افغان سرحد ’ڈیورینڈ لائن‘ کے اس پار افغان علاقوں سے پاکستان کے سرحدی مقامات پر گزشتہ کچھ عرصہ سے شدت پسندوں کے حملوں میں ایک مرتبہ پھر سے تیزی آرہی ہے ۔

دو دن پہلے بھی خیبر پختون خوا کے ضلع لوئر دیر میں سرحد پار سے درجنوں مسلح شدت پسندوں کے ایک حملے کو ناکام بنایا گیا تھا جس میں فوجی حکام کے مطابق 6 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

پاکستان نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے ان سے احتجاج بھی کیا تھا۔

اس سے پہلے بھی گزشتہ دو ماہ کے دوران باجوڑ ایجنسی میں افغان علاقوں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر کئی مرتبہ حملےہو چکے ہیں جس میں متعدد اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر افغانستان کی جانب سے بھی پاکستان فوج پر افغان علاقوں پر گولہ باری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان وقتاً فوقتاً قبول کرتی رہی ہے۔ حالیہ چند حملوں کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی کے ترجمان اور کمانڈرز قبول کرچکے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ حکومت پاکستان سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے گروپ پر عائد کرتی رہی ہے اور اس کےلیے افغان حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستان شدت پسندوں کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں