عمرکوٹ میں ہندو تاجروں کے قتل کے خلاف ہڑتال

Image caption مظاہرے میں سیاسی رہنماؤں، کارکنوں، اور کراچی اور عمرکوٹ سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی

پاکستان کے ضلع عمر کوٹ میں جمعرات کے روز دو ہندو تاجروں کے قتل کے خلاف آج دوسرے روز بھی ضلعے بھر میں ہڑتال کی گئی۔

تاجروں سمیت دیگر شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے اِس واقعے کے خلاف آج عمر کوٹ پریس کلب پر مظاہرہ کر کے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ مظاہرے اور ہڑتال کی کال پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی لال مالہی سمیت ہندو برادری کے دیگر ارکان نے دی تھی۔

واقعے کو دو روز گزر جانے کے بعد بھی ملزمان کو گرفتار نہ کیے جانے پر عمرکوٹ کے ایس ایچ او غلام حُسین مشوری کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے فوری بعد زخمی تاجروں اشوک کمار اور ہیرا لال کو ڈسٹرکٹ اسپتال عمرکوٹ میں طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پر ڈیوٹی ڈاکٹر کو معطل کردیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے حکام کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔

جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کو تین روز کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔

گذشتہ روز بھی عمر کوٹ میں ہندو تاجروں کو قتل کیے جانے کے خلاف مظاہرہ اور ہڑتال کی گئی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر متاثرہ خاندان سے تعزیت اور حقائق معلوم کرنے کے لیے رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور سمیت میر منور علی تالپور، پیر شفقت شاہ جیلانی، سید علی مردان شاہ، پی پی پی کے سینیٹر ہری رام اور سابق رکن قومی اسمبلی پیر آفتاب شاہ جیلانی آج عمر کوٹ پہنچے تھے۔

اس کے علاوہ یہاں کراچی اور عمرکوٹ کی سول سوسائٹی کے ممبران بھی موجود تھے۔ اِس موقعے پر اقلیتی نشست سے منتخب ہونے والے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے مطالبہ کیا کہ ضلعے کے ڈی ایچ او کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

جمعرات کو عمر کوٹ کے دو تاجروں ہیرا لال اور اشوک کمار مالہی کو نامعلوم افراد نے دکان بند کرکے گھر جاتے ہوئے تین تلوار چوک کے مقام پر ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اسی بارے میں