قومی اسمبلی کی پہلی ڈپٹی سپیکر

Image caption سنہ 1973 میں وہ قومی اسمبلی کی رکن اسبمبلی منتخب ہوئیں

پاکستان کی قومی اسمبلی کی پہلی ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر اشرف عباسی 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئی ہیں۔

اشرف عباسی کا جنم 1925 کو لاڑکانہ کے حکیم محمد سعید خان عباسی کے گھر ہوا۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم لاڑکانہ سے حاصل کی جس کے بعد دہلی اور کراچی کے تعلیمی اداروں میں بھی وہ زیر تعلیم رہیں۔ انھوں نے ڈاؤ کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، اس وقت وہ دو بچوں کی ماں تھی۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو انھیں سیاست میں لے کر آئے اور سنہ 1962 میں وہ صوبائی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں جس کے بعد وہ سیاسی میدان میں آگے بڑھتی رہیں۔

سنہ 1973 میں وہ قومی اسمبلی کی رکن اسمبلی منتخب ہوئیں جس کے بعد انھیں قومی اسمبلی کی پہلی ڈپٹی سپیکر ہونے کا اعزاز حاصل رہا۔

بیگم اشرف عباسی اس کمیٹی کی بھی رکن تھی، جس نے 1973 کا آئین مرتب کیا تھا۔ انھوں نے سنہ 1977 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی اور انھیں محکمۂ بلدیات کا قلمدان دیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان سے قریبی مراسم ہونے کی وجہ سے جنرل ضیاالحق کے مارشل لا میں انھیں کئی بار نظر بندی اور قید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جب قذافی سٹڈیم لاہور میں بیگم نصرت بھٹو پولیس کی لاٹھی چارج میں زخمی ہوئی تھیں تو بیگم شرف عباسی ان کے ہمراہ تھیں اور انھیں بھی چوٹیں آئی تھیں۔

سندھ میں بحالی جمہوریت کی تحریک میں بھی بیگم اشرف عباسی صف اول کی قیادت میں شامل رہیں اور انھیں اس کی پاداش میں 14 ماہ جیل بھگتنا پڑی۔

جنرل ضیاالحق کی جہاز کے حادثے میں ہلاکت کے بعد سنہ 1988 میں ہونے والے عام انتخابات میں وہ لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔

ان دنوں لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر مشتمل تھا اور ان تینوں نشستوں پر ڈاکٹر اشرف عباسی کے علاوہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو نے کامیابی حاصل کی تھی۔

بیگم اشرف عباسی کا مقابلہ سندھ کے ایک بڑے جاگیردار سردار سلطان چانڈیو کے ساتھ ہوا لیکن انھوں نے سردار کو ایک واضح برتری کے ساتھ شسکت دے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ بھٹو خاندان کے آْبائی ضلعے لاڑکانہ پر ان کے علاوہ عباسی خاندان کا تسلط رہا ہے جو بینظیر بھٹو کی ہلاکت سے پہلے تک قائم رہا۔

بینظیر بھٹو کے جن چند خاندانوں کے ساتھ قریبی مراسم رہے، ان میں بیگم اشرف عباسی کا خاندان بھی شامل تھا جن پر انھیں زندگی کے آخری لمحات تک اعتماد رہا۔

بیگم اشرف عباسی کے بڑے فرزند منور عباسی زمانہ طالب علمی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ منسلک رہے وہ صوبائی وزیر بھی رہے چکے ہیں جبکہ دوسرے بیٹے صفدر عباسی سینیٹر اور بینظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی میں طاقتور سمجھی جانے والی ان کی سیکریٹری ناہید خان کے شوہر ہیں۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اس خاندان کے پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے اختلاف سامنے آئے اور بالآخر راہیں الگ ہوگئیں۔

عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد بیگم اشرف عباسی کئی جامعات کی سینڈیکیٹ ممبر رہیں جبکہ وہ ’شہید ذوالفقار بھٹو انسٹیٹیوٹ‘ لاڑکانہ کی چیئرپرسن بھی رہیں۔ بعد میں انھوں نے ’مدھرس‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا تھا جس کے ذریعے وہ مستحق اور نادار خواتین کی مدد کیا کرتی تھیں۔

اپنی سیاسی اور ذاتی زندگی پر مشتمل انھوں نے سندھی زبان میں ’جیکی ھلن اکیلیوں‘ یعنی جو خواتین تنہا چل پڑیں کے عنوان سے کتاب بھی تحریر کی ہے۔ جس کا بعد میں اردو میں اورق زندگی کے نام سے ترجمہ بھی کیا گیا۔ وہ عباسی قبیلے کی سردار بھی رہیں جو بعد میں منور عباسی کے حوالے کی گئی۔

اسی بارے میں