کراچی: دو ’ملزمان‘ گرفتار، ایم کیو ایم کا احتجاج

Image caption رینجرز کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس کارروائی کے دوران علاقے سے نہ کوئی بیریئر ہٹایا گیا اور نہ ہی مزید گرفتاری کی گئی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے رہائشی علاقے سے رینجرز نے دو مبینہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری طرف ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

اتوار اور پیر کی درمیانی شب کو شہر کے وسطی علاقے پیر الاہی بخش کالونی میں رینجرز نے محاصرہ کر کے ان ملزمان کو حراست میں لیا جس کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد علاقے میں جمع ہوگئی۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ان کی گلی کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی کیمپ اکھاڑ دیا گیا اور ان کے دو پڑوسیوں اور ایم کیو ایم کے کارکن شمشماد سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بقول ان کے رینجرز لائسنس یافتہ اسلحہ بھی ساتھ لے گئے ہیں جس کے بعد وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیراعلیٰ سندھ، کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کو اس معاملے کا نوٹس لینے کی گزارش کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس ہو یا رینجرز جب بھی کسی گلی یا محلے میں چھاپا مارا گیا ہے تو ایم کیو ایم نے ہمیشہ تعاون کیا اور کوئی بھی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر کی گئیں جس کے دوران مبینہ ٹارگٹ کلر شمشاد اور بھتہ خور یاسر کو اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا۔

رینجرز کے ترجمان نے واضح کیا کہ اس کارروائی کے دوران علاقے سے نہ کوئی بیریئر ہٹایا گیا اور نہ ہی مزید گرفتاری کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ در حقیقت پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے لیکن ملزمان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ اتوار کی شام متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس کر کے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری سے اظہار یکجہتی کیا تھا، جس کے چند گھنٹوں کے بعد وفاقی حکومت کے زیرانتظام رینجرز کی یہ کارروائی سامنے آئی ہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر پر چھاپہ مارکر جماعت کو دھمکایاگیا ہے تاکہ وہ جمہوری اور سیاسی کردار ادا نہ کرے۔

رابطہ کمیٹی کے رکن کنور جمیل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی آپریشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

کنور جمیل کے مطابق اس وقت صورت حال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ایسے معزز افراد جن کا پاکستان میں اور بیرون ملک مقیم پاکستانی نام عزت سے لیتے ہیں ان کے گھر اور اطراف میں کارروائی کی گئی جب ایک سیاسی رہنما کے ساتھ یہ سلوک کیا جا سکتا ہے کہ تو عام شہری کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟

دوسری جانب رینجرز کے ایک اعلامیے میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ شب گرفتار کیے گئے مبینہ ٹارگٹ کلر شمشاد علی کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔

علامیے کے مطابق یہ مبینہ ٹارگٹ کلر ایک سیاسی رہنما کا دست راست بتایا جاتا ہے اور وہ ان کے احکامات پر کئی جرائم میں ملوث رہا ہے۔

رینجرز نے گرفتاری کے چند گھنٹوں کے بعد یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں 12 افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا ہے جن میں تین پولیس اہلکار شامل ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم شمشاد ٹارگٹ کلنگ ٹیم کا سربراہ ہے اور اس کے احکامات پر 35 افراد کا قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھتہ خوری میں بھی ملوث رہا ہے جس سے حاصل شدہ رقم سیاسی تنظیم کے ایک رہنما کو پہنچائی جاتی تھی۔

اسی بارے میں