گوجرانوالا واقعہ میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں

Image caption عرفات کالونی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ بظاہر علاقے میں امن ہے لیکن ابھی بھی خوف کی فضا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ میں فیس بُک پر مبینہ طور پر توہین مذہب سے متعلق مواد شائع ہونے پر ہنگاموں کے دوران چار افراد کی ہلاکت اور توہین مذہب کرنے والے افراد کی گرفتاری میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اس ضمن میں پولیس کا موقف ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

اس مقدمے کے مرکزی کردار مولوی حاکم خان سمیت جو ایک مقامی مسجد کے پیش امام بھی ہیں، دیگر نامزد اور سینکٹروں نامعلوم افراد ابھی تک روپوش ہیں۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ امام مسجد کو گرفتار نہ کرنے کے لیے مختلف مذہبی حلقوں کی طرف سے پولیس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

گوجرانوالہ پولیس کے ترجمان گل ریز خان کے مطابق اس واقعے سے متعلق مختلف نجی ٹی وی چینلز سے ویڈیو فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جن میں نامعلوم ملزمان کی شناخت کرنے کے بعد اُن کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

مقامی انتظامیہ کی طرف سے اس واقعے سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیجی جانے والی رپورٹ مسترد کر دی گئی ہے اور اس ضمن میں مقامی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع رپورٹ مرتب کریں۔

تھانہ پیپلز کالونی نے فیس بُک پر توہین امیز مواد شائع کرنے کا مقدمہ بھی درج کر لیا ہےاور مقامی تھانے کےاہلکار ابوبکر کے مطابق یہ مقدمہ 295 اے کے تحت درج کیا گیا ہے جس کی پاکستانی قانون میں سزا عمر قید ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں عاقب اُس کے چچا زاد بھائی ڈاکٹر سہیل اور عتیق کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق عاقب کی فیس بُک صفحے پر توہین امیز مواد شائع ہوا تھا جس کے بعد مقامی مسجد کے پیش امام مولوی حاکم خان کی طرف سے مسجد میں اس مواد سے متعلق لوگوں کو اُکسانے کے لیے تقاریر ہوئیں جس پر مشتعل مظاہرین نے علاقے میں رہائش احمدیوں کے گھروں کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں رہائش پذیر احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد ابھی تک اپنے گھروں کو واپس نہیں آئے تاہم اُن کے پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے ہیں جن کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔

عرفات کالونی کے، جہاں پر یہ واقعہ رونما ہوا، مکینوں کا کہنا ہے کہ بظاہر علاقے میں امن ہے لیکن خوف کی فصا بدستور موجود ہے۔

یاد رہے کہ مبینہ طور پر توہین مذہب سےمتعلق پیش آنے والے اس واقعے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں