ضرب عضب: دو سکیورٹی اہلکار اور سات ازبک ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان کے دتہ خیل بازار میں ازبک شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں پر حملے میں دو سکیورٹی اہلکار اور 7 شدت پسند ہلاک ہو گئے

پاکستان کے فوجی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب غضب میں دو سکیورٹی اہلکار جبکہ سات شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق شمالی وزیرستان میں میران شاہ، دتہ خیل روڈ کی کلیئرنس کے دوران فورسز نے دتہ خیل بازار میں ازبک شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں پر اچانک حملہ کیا۔

اس کارروائی کے نتیجے میں شات شدت پسند ہلاک اور دو سکیورٹی اہلکار نائب صوبیدار مشکور اور لانس نائیک ظہیر ہلاک ہو گئے۔

فوجی حکام نے شمالی وزیرستان کے اہم شہری علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ’میران شاہ سے متصل دیہات اور میر علی، بویا، دیگان سمیت دتہ خیل تک کے علاقوں کو شدت پسندوں سے کلئیر کروا لیا گیا ہے۔‘

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ میران شاہ میر علی کے درمیان موجود دیہات مومن گل زیارت، درپہ خیل، ٹاپی اور سپرگا سمیت دریائے ٹوچی تک کے علاقوں میں چند جگہوں پر ہونے والی مزاحمت کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

Image caption فوج نے اہم شہری علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرنے کا دعویٰ کیا ہے

آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو سکیورٹی فورسز نے میر علی میں شہباز خیل کے گرد و نواح میں کارروائی کے دوران 75 راکٹوں سمیت بڑی تعداد میں بارودی سرنگوں سمیت خودکش جیکٹیں بھی برآمد کی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میر علی کے نواح میں عمرکلی میں ایک بارودی سرنگ بنانے کی فیکٹری کا پتہ بھی لگایا گیا۔ اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کا پروپگینڈا لٹریچر بھی ملا۔

یاد رہے کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں 12 جون کو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

فوجی حکام کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والے 500 سے زائد شدت پسندوں میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ غیر ملکی، خصوصاً ازبک شدت پسند بھی شامل ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق آپریشن کے اعلان کے بعد شمالی وزیرستان سے کل 53 ہزار186 خاندانوں نے نقل مکانی کی جو اب کیمپوں، کرائے کے گھروں یا پھر اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں مقیم ہیں۔

آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فوسرز نے کیا اہداف حاصل کیے اس بارے میں آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ علاقے تک آزاد میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رسائی حاصل نہیں۔

تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک صرف ایک بار ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو میر علی کا دورہ کروایا گیا تھا۔

ادھرپاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف چار روزہ سرکاری دورے پر آسٹریلیا روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ آسٹریلیا کے دفاعی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ اہم اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں