جماعتِ اسلامی کا ’عوامی ایجنڈا‘ ظاہر کرنے سے اجتناب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سراج الحق نے 10 اگست کو اسلام آباد میں ’لبیک یاقبلہ اول‘ کے عنوان سے عوامی ریلی کے انقاد کا اعلان بھی کیا

پاکستان کی بڑی مذہبی جماعت جماعت اسلامی نے دو ماہ کی مشاورت کے بعد منظور کیا گیا اپنا ’عوامی ایجنڈا‘ عام کرنے کی بجائے فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجی اجتماعات منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جماعت کے امیر سراج الحق نے پیر کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں غزہ کے لیے ایک کروڑ روپے اور 60 ہزار ڈالرز کی چھ ایمبولینس بھجوانے کا اعلان کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے کارکن اور صحافی اخباری کانفرنس میں جماعت کے ’عوامی ایجنڈے‘ کی تفصیلات سننے آئے تھے لیکن جماعتی قیادت نے غزہ میں 28 روز سے جاری لڑائی کے ردعمل میں اسے موخر کر دیا۔

ہوٹل کے ہال میں نصب ایک بڑا بینر بھی اسی ایجنڈے کی خدوخال بتا رہا تھا جو شاید وقت نہ ہونے کی وجہ سے تبدیل نہیں کیا جاسکا۔

بینر پر سراج الحق کی جانب سے لکھا تھا کہ وہ نوجوان اور غریبوں کو لے کر نکلیں گے اور اسلامی فلاحی انقلاب لائیں گے لیکن غزہ ایک مرتبہ پھر قتل و غارت گری کا مرکز بنا ہو ہے تو جماعت کیسے اسے مزید نظر انداز کر سکتی تھی۔

جماعت نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم دنیا کی اکلوتی جوہری طاقت ہونے کے ناطے رہنمائی کرتے ہوئے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس جلد اسلام آباد میں طلب کرے۔

امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اگر حکومت سربراہی اجلاس طلب نہیں کرتی تو جماعت دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے رہنماؤں کو مدعو کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

سراج الحق نے 10 اگست کو اسلام آباد میں’لبیک یاقبلہ اول‘ کے عنوان سے عوامی ریلی کے انقاد کا اعلان بھی کیا۔ انھوں نے 17 اگست کو ملک بھر میں یومِ فلسطین منانے کا بھی اعلان کیا جبکہ جماعت اسی روز کراچی میں غزہ ملین مارچ منعقد کرے گی۔ اس بابت وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

دیگر سیاسی جماعتوں جیسے کہ عمران خان کی تحریک انصاف کی جانب سے 14 اگست کے مظاہرے کی بابت ان سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حالات میں ابتری کا امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 کے بعد 15 اگست بھی آئے گا۔

جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ وہ حماس کے رہنما خالد مشعل سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں اور جماعت نے اسرائیل کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ متاثرہ فلسطینیوں کے لیے ایک کروڑ روپے کی پہلی قسط اور چھ ایمبولینس بھی روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں