خضدار پریس کلب سکیورٹی خدشات کی بنا پر بند

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 2102 میں خضدار پریس کلب کے صدر محمد خان ساسولی کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کر دیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر خضدار کا پریس کلب ایک مرتبہ پھر صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے بند ہوگیا ہے۔

خضدار انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں نے پریس کلب کو بعض عناصر کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باعث بند کیا ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ ہندو برادری کے بعض تاجروں نے عید الفطر سے قبل پریس کانفرنس میں ان عناصر کے نام بتائے تھے جو ان سے بھتہ لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس پریس کانفرنس کے بعد بعض عناصر نے صحافیوں کو دھمکی دی جس کے باعث صحافیوں نے پریس کلب کو بند کر دیا۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ خضدار پریس کلب کو سکیورٹی خدشات کی بنا پر بند کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی خضدار میں پریس کلب دھمکیوں کے باعث طویل عرصے تک بند ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خضدار پریس کلب کے سیکریٹری جنرل عبد الحق بھی نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے تھے

خضدار کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال خراب ہے۔

2007 کے بعد بلوچستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں خضدار میں صحافیوں کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور خضدار کے پانچ صحافیوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے۔

دھمکیوں کے باعث نہ صرف بعض صحافیوں کو خضدار چھوڑ کر دوسرے شہروں میں پناہ لینا پڑی ہے بلکہ خضدار پریس کلب کے سابق صدر ندیم گرگناڑی کے دو نوجوان بیٹوں کے علاوہ ریاض مینگل کے ایک بھائی کو بھی کچھ عرصہ قبل ہدف بناکر قتل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں