پاکستان میں انقلاب و لانگ مارچ کا موسم شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرما گرم ماحول میں حکومت اس احتجاج کو کیسے ہینڈل کرے گی، یقیناً یہ ن لیگ کا ایک بڑا سیاسی امتحان ہے

پاکستان میں عید کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی سیاست دانوں کے ایک دوسرے پر الزامات، دھمکیوں اور جوابی دھمکیوں نے سیاسی درجہ حرارت میں خوب اضافہ کر دیا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں اپنے احتجاج کو لے کر ایک گرما گرم ماحول بنانے اور ابتدا میں لاپروا نظر آنے والی حکومت پر بظاہر سیاسی دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

سوال یہ ہے جب اس حکومت سے پہلے منتخب ہونے والی حکومت جیسے تیسے اپنی مدت پوری کر چکی ہیں تو پھر آخر ایسے کیا اسباب پیدا ہوئے کہ ایک سال میں نون لیگ کی حکومت اس صورتحال سے دوچار ہوئی جس سے عموعاً سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ہوتی ہیں۔

سیاسیات کی پروفیسر ڈاکٹر عنبرین جاوید کہتی ہیں کہ ’ہمارے ملک میں ابھی جمہوریت ابتدائی مراحل میں ہے اسے مستحکم ہونے کے لیے وقت درکار ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں میں بے صبری سی ہے۔ وہ چاہتے ہیں دنوں میں کام ہوں، مسئلے حل ہوں، ان کے مطالبے پورے ہوں۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں یہ سوچ پیدا نہیں ہوگی کہ وہ منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے دیں گاڑی ایسے ہی چلے گی۔‘

کئی تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے معاملات کو پرامن طریقے سے سلجھانے کے کئی مواقع ضائع کیے ہیں اور اب مذاکرات کے سگنل دینا بے سود ہوگا۔

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں: ’یہ نواز حکومت کو سوچنا چاہیے کہ دو تہائی اکثریت کے باوجود اتنی ناراضگی کیسے بڑھی کہ ایک ہی سال میں اپوزیشن اس طرح سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ دوسرا ن لیگ کی حکومت کی ترجیحات درست نہیں۔پاکستان کے عوام کو بجلی چاہیے وہ مہنگائی اور امن عامہ کے مسائل کا حل مانگتے ہیں۔ لیکن حکومت کی توجہ بڑی سڑکیں اور پل بنانے اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے پر ہے۔ اپنی ترجیحات درست نہ ہونے کے باعث بھی نون لیگ مشکل کا شکار ہو جاتی ہے۔‘

تاہم سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ سیاست میں کچھ بھی حتمی نہیں۔ کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔اور حکومت کو تحریک انصاف کے ساتھ درپردہ رابطے کر کے ان کے شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کروانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے، اس سے معاملات سلجھ سکتے ہیں۔

پاکستان میں تقریباً تمام سیاسی جماعتیں عمران خان اور طاہرالقادری کے پرامن احتجاج کے حق کی حمایت میں ہیں۔ اور بظاہر نون لیگ کو بھی تحریک انصاف کے آزادی مارچ پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے تاہم اسلام آباد کے ڈی چوک میں ان کے دھرنے اور طاہرالقادری کی جانب سے 10 اگست کو’یومِ شہدا‘ کے اعلان پر حکومت واضح طور پر پریشان دکھائی دے رہی ہے۔

عمران خان اپنے پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ وہ شریف برادران کے اقتدار کے خاتمے تک اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔

دوسری طرف طاہرالقادری یہ پیشن گوئی کر چکے ہیں کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک شریف برادران اس ملک کے حکمران نہیں رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طاہرالقادری یہ پیشن گوئی کرچکے ہیں کہ اگست کا مہینہ ختم ہونے تک شریف برادران اس ملک کے حکمران نہیں رہیں گے

حکومت کی طرف سے بھی ہر بیان کا جواب دینے کی ذمے داری کچھ وزرا بخوبی نبھا رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیرقانون رانا مشہود نے واضح کیا ہے کہ نون لیگ حکومت توڑنے کی کسی بھی کوشش پر خاموش نہیں بیٹھے گی۔

انھوں نے طاہرالقادری کے خلاف منی لانڈرنگ کی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ بھی دیا جبکہ وزیراطلاعات پرویز رشید بھی دوٹوک الفاظ میں یہ بتا چکے ہیں کہ ’تخریب کی سیاست‘ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

ایسے گرما گرم ماحول میں حکومت اس احتجاج کو کیسے ہینڈل کرے گی، یقیناً یہ نون لیگ کا ایک بڑا سیاسی امتحان ہے تاہم 14 اگست تک پاکستان کی سیاست میں ایک نیا دن ہو گا۔ آخر یہ جمہوریت ہے کوئی مذاق تو نہیں۔

اسی بارے میں