کائنات، حرا اور گھٹن

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption گوجرانوالا میں مشتعل ہجوم حملہ کرنے کے بعد احمدیوں کے گھروں کے سازوسامان کو پولیس کی موجودگی میں نذرِ آتش کر رہا ہے

قاصد کی عمر ابھی ایک سال بھی نہیں مگر وہ اپنے والد کی گود میں آنکھیں بند کیے دنیا مافیہا سے بے خبر لیٹا ہوا تکلیف سے ہولے ہولے کراہ رہا تھا یا شاید اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔

قاصد کے سر کے اگلے حصے کے بال کھال سمیت جھلسے ہوئے اور اس کے کان اور آنکھوں کے اوپری حصے میں ابھی تک دھویں کی سیاہی کے اثرات موجود تھے، جبکہ جسم پر جھلسنے کے آثار بتا رہے تھے کہ شاید وہ کسی بھٹی میں سے نکل کر آیا ہے۔

در حقیقت قاصد ان 11 افراد میں سے ایک بچہ تھا جو گوجرانوالا کے علاقے کچی پمپ والی میں ایک احمدی گھر میں ایک ہجوم کے حملے کے نتیجے میں محبوس ہو گئے تھے۔

قاصد کے والد اس کے بھائی مصور کی حالت بھی دکھانا چاہتے تھے تو اسے کمرے میں لینے گئے اور قاصد کو میری گود میں ڈال دیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت میری کیا حالت تھی مگر مجھے یہ اب ضرور معلوم ہے کہ جب ہجوم قاصد کے گھر پر حملہ آور ہوا تو وہ اپنی ماں کی گود میں اپنے کزنز اور بھائی کے ساتھ اس امید پر چھپ گیا کہ شاید ہجوم کو رحم آجائے اور اسے بخش دیا جائے۔

قاصد کے والد نے بتایا کہ ’جب اس کمرے کے دروازے پر لگے تالے کو توڑنے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو ہجوم نے تالے میں ایلفی ڈالی اور اِدھر اُدھر سے پلاسٹک اور دوسرا سامان اکٹھا کیا اور کھڑکی کے شیشے توڑ کر آگ لگا دی‘۔

بات یہیں نہیں ختم ہو جاتی بلکہ ’جانے سے پہلے ہجوم میں موجود افراد نے اندر موجود بے بس محبوس ماؤں اور بچوں کو ہاتھ ہلا کر گُڈ بائے کہا اور مرنے کے لیے چھوڑ کر چلے گئے۔‘

اتنی دیر میں قاصد کا بھائی مصور آ گیا جو گُم صم سہما، ڈرا ہوا اپنے باپ کی چھاتی سے لپٹا سسکیاں لے رہا تھا۔ باپ نے مجھے بتایا کہ اگر چند منٹ کی تاخیر ہو جاتی تو دونوں بھائیوں اور ان کی ماں اور کزنز بھی شاید نہ بچتیں۔

مگر ان چند منٹوں کی تاخیر کے دوران ہی معصوم کائنات اور حرا اپنی جان سے گئیں جن کی لاشوں کے کھلے منہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس معاشرے میں اب کتنی ناقابلِ برداشت گھٹن، کتنی حبس ہے جس میں انھیں سانس لینے میں اتنی مشکل تھی کہ لحد میں اترتے ہوئے بھی ان کے چہرے چند تازہ ہوا کے جھونکوں کے لیے بے تاب، بے صبر دکھائی دیتے ہیں۔

قاصد اور مصور ان دونوں بچوں کے اصلی نام نہیں اور انھیں ان کے تحفظ کے لیے انہیں تبدیل کیا گیا ہے مگر کائنات اور حرا انھی دو معصوموں کے نام ہیں جو اس گھٹن زدہ معاشرے سے اس ’مشتعل ہجوم‘ کے ہاتھوں ’دو گروہوں‘ کے تصادم کے نتیجے میں اس دنیا کو چھوڑ کر منوں مٹی تلے دفن ہو گئیں۔

مگر ان کی کھچی ہوئی نسوں اور سانس کے منتظر چہروں پر یہ بات چیخ چیخ کر متوجہ کر رہی تھی جو ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں بھی لکھی گئی کہ ’اس ملک کو توہینِ انسانیت کے قانون کی ضرورت ہے۔‘

یہ تحریر ایک سماجی کارکن نے بھجوائی ہے جن کا نام اُن کی حفاظت کے پیشِ نظر نہیں دیا گیا جنھوں نے گوجرانوالا واقعے کے متاثرین سے ملاقات کی۔

اسی بارے میں