اسلام آباد میں فوج بلانے کے سیاسی مقاصد نہیں: نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’ملک بھر میں سات مقامات پر پہلے سے فوج موجود ہے لیکن اس کے پاس کوئی قانونی تحفظ نہیں‘

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 14 اگست کو ہونے والے تحریکِ انصاف کے جلسے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں آئین کے آرٹیکل 245 کے اطلاق کا سیاسی جلسے سے تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے ملک کی یومِ آزادی کے موقع پر 14 اگست کو اسلام آباد میں ’آزادی مارچ‘ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جہاں بھی آرٹیکل 245 کے نفاد کی ضرورت پڑی تو اس کا اطلاق کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کے بقول اس آرٹیکل کا نفاذ صرف دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور اسلام آبار ہائی کورٹ کے اختیارِ سماعت اور حدود کو معطل نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی اور افواج پاکستان سے بھی اس معاملے میں بار بار مشاورت کی گئی ہے جبکہ قانونی ماہرین کی بھی مدد لی گئی اور گذشتہ سات سال میں جو آرٹیکل 245 کا نفاذ ہوا تھا اس کی روشنی میں تبدیلی لا کر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اور فیصل آباد کے ایئر پورٹوں پر فوج تعینات کر دی گئی ہے جبکہ جلد ہی پشاور اور کراچی کے ایئرپورٹ بھی فوج کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’صوبوں کو خط لکھا ہے کہ اگر انھیں ضرورت ہے تو وہ بھی اپنے صوبوں میں فوج تعینات کر سکتے ہیں اور اگر ضرورت نہیں تو تحریری طور پر بتائیں۔‘

’بدقسمتی سے ماضی میں بہت سے ادوار میں آرٹیکل 245 کے ذریعے فوج کو سیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔ لال مسجد آپریشن میں آرٹیکل 245 کا غلط استعمال کیا گیا۔ جس دن سے آرٹیکل 245 پاکستان کے آئین کا حصے بنا اس وقت سے لے کر اب تک درجنوں بار اس کا اطلاق ہو چکا ہے۔‘

آرٹیکل 245 کا سنہ 2007 سے لے کر اگست سنہ 2014 تک 24 دفعہ اطلاق ہو چکا ہے۔

انھوں نے ایوان سے سوال کیا کہ کیا ماضی میں اس آرٹیکل کے نفاذ کے وقت کبھی ایوان سے منظوری لی گئی تھی یا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا؟

وزیرداخلہ نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں صوبائی حکومتوں نے اس آرٹیکل کا استعمال کیا جسے نافذ کرنے کا حق صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ فوج کو طلب کرنا حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے کیونکہ دیگر مملک نے بھی ماضی میں انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے فوج کو طلب کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایوان میں بیٹھا ہر شخص محبِ وطن اور جمہوریت کا داعی ہے تاہم پریس کانفرنسوں اور بیانات کے ذریعے حقائق کو موڑنا کسی پارلیمنٹرین کے شایان شان نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں آرٹیکل 245 کے اطلاق کا فیصلہ طالبان سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد سابقہ حکومتوں کے تجربات کی روشنی میں کیا گیا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ملک بھر میں پہلے سے سات مقامات پر فوج موجود ہے لیکن اس کے پاس کوئی قانونی تحفظ نہیں ہے، تاہم یہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے سلسلے میں قانون سازی کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2009 میں سوات آپریشن کے ردِ عمل میں شدت پسندی کے واقعات پیش آئے تھے۔

’فوج اور حکومت نے مل کر فیصلہ کیا کہ جہاں جہاں پولیس اور سول مسلح فورسز کو کسی بڑے واقعے میں مدد کی ضرورت ہوگی، وہاں فوج بلائی جائے، سات مختلف جگہ جو حساس ہیں ان کے بارے میں نہیں بتایا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ریپڈ رسپانس فورس راولپنڈی اور اسلام آباد میں کسی بھی واقعے کی صورت میں وہاں پہنچ جائے گی۔

قومی اسمبلی میں بحث کے دوران بعض دیگر جماعتوں کے علاوہ پیپلز پارٹی اور جماعتِ اسلامی نے آرٹیکل کے نفاذ کی بھرپور مخالفت کی۔

حزب اختلاف کے رہنما سید خورشید احمد شاہ نے اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے صرف مالاکنڈ ڈویژن میں آرٹیکل 245 نافذ کیا تھا تاہم اس سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے سنہ 1977 میں اسی آرٹیکل کو نافذ کرتے ہوئے لاہور میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا تھا۔

سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کو تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جو ملک میں جمہوریت کے لیے خطرناک ہو۔

جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 245 حکومتی کمزوریوں کو بے نقاب کرے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مفاہمت کی کوشش کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے اور اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے۔

اسی بارے میں