’ایم آر ڈی میں قربانی لیکن ڈگری جعلی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sindh Assembly
Image caption غلام قادر چانڈیو کا دعویٰ ہے کہ ان کی ڈگری اصلی ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے وہ سپریم کورٹ تک جائیں گے

کراچی میں الیکشن ٹرائبیونل نے صوبائی حلقے پی ایس 27 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کامیاب امیدوار غلام قادر چانڈیو کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا ہے۔

الیکشن ٹرائبیونل کے سربراہ ظفر احمد شیروانی نے پیر کو مخالف امیدوار سید زین شاہ کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔

ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ غلام قادر چانڈیو نے حلفیہ بیان دیا تھا کہ انھوں نے شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا ہے۔

سماعت کے دوران شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے ڈپٹی کنٹرولر نے ریکارڈ کے ذریعے تصدیق کی کہ غلام قادر چانڈیو نے 1986 میں ایم اے سالِ اول کا امتحان پاس کیا ہے۔ تاہم وہ اس بنیاد پر ایم اے فائنل کی مارک شیٹ کی تصدیق نہیں کرسکے کہ ریکارڈ کو ایک عمارت سے دوسری عمارت میں منتقلی کے دوران نقصان پہنچا۔

ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈپٹی کنٹرولر اس بات کی وضاحت نہیں کر سکے کہ ایم اے فائنل کے امیدواروں کی مارک شیٹ اور انتہائی اہم رجسٹر کے اسی صحفے کو کیوں نقصان پہنچا جس میں غلام قادر چانڈیو کا نام درج تھا جبکہ رجسٹر کے دیگر صفحات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ غلام قادر چانڈیو ایسے موثر شواہد اور ثبوت پیش نہیں کرسکے جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ انھوں نے ایم اے کا امتحان پاس کیا ہے جبکہ نامزدگی فارم جمع کرواتے وقت انھوں نے حلفاً ایم اے پاس ہونے کا دعویٰ کیا تھا جو اب وہ ثابت نہیں کر سکے۔

ٹرائبیونل کا کہنا تھا کہ چونکہ غلام قادر چانڈیو امین اور صادق کے زمرے میں نہیں آتے اس لیے ان کی کامیابی کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔

جئے سندھ تحریک کے بانی اور پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے بزرگ سیاست دان جے ایم سید کے پوتے زین شاہ نے اپنی پٹیشن میں چانڈیو پر پولنگ اسٹاف کو یرغمال بنانے اور دھاندلیوں کے الزامات کے ساتھ جعلی ڈگری کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

زین شاہ کا کہنا تھا کہ غلام قادر چانڈیو نے غلط بیانی کی ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا انھیں نااہل قرار دے کر دوسرے نمبر پر ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار یعنی انھیں کامیاب قرار دیا جائے۔

تاہم عدالت نے اس نشست پر دوبارہ انتخابات کا حکم جاری کیا ہے۔

زین شاہ کے وکیل سریش جیٹھانند کا کہنا ہے کہ ٹرائبیونل میں غلام قادر چانڈیو کی نااہلی کی مدت نہیں واضح کی گئی لیکن چونکہ وہ امین اور صادق نہیں اس لیے وہ ہمیشہ کے لیے نااہل ہوگئے ہیں اور اب انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

غلام قادر چانڈیو اس سے پہلے بھی رکن صوبائی اسمبلی اور سینیٹر رہ چکے ہیں۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سکرنڈ کے قریب فوجی کارروائی میں ان کے گاؤں کے 16 افراد ہلاک ہوئے جبکہ والد پنھل چانڈیو کئی ماہ تک اذیت گاہوں میں رہے۔

غلام قادر چانڈیو کا دعویٰ ہے کہ ان کی ڈگری اصلی ہے اور یہ ثابت کرنے کے لیے وہ سپریم کورٹ تک جائیں گے کیونکہ انھوں نے جو شواہد پیش کیے ہیں اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ڈگری اصلی ہے لیکن ٹرائبیونل نے ان کو مسترد کر کے حلقے کے عوام سے زیادتی کی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ عام انتخابات کے بعد سندھ میں یہ تیسری نااہلی سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی ہی کے ٹکٹ پر لاڑکانہ ضلعے سے صوبائی حلقے پر کامیاب الطاف انڑ اور کراچی سے کامیاب قرار دیے گئے مسلم لیگ ن کے امیدوار عرفان اللہ مروت کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں