وزیرستان کے متاثرین کو سکول کی عمارتیں خالی کرنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیمپوں میں بے پردگی ہے اور وہ اپنے بچوں کو کیمپ میں نہیں لے جا سکتے: محمد صدیق

خیبر پختونخوا کے مختلف سکولوں میں رہائش پذیر شمالی وزیرستان کے متاثرہ افراد سے کہاگیا ہے کہ وہ یہ سکول خالی کر کے کہیں اور منتقل ہو جائیں کیونکہ جنوبی اضلاع کے سکول گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد یکم ستمبر سے کھل رہے ہیں۔

بنوں، کرک، لکی مروت، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریباً ایک ہزار سکولوں میں انیس ہزار سے زیادہ خاندان مقیم ہیں۔سکولوں میں رہائش پذیر متاثرہ افراد کی تعداد دو سے تین لاکھ بتائی جاتی ہے۔

بنوں میں مقامی انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ کیمپ میں منتقل ہو جائیں اور یا کرائے کے مکان حاصل کر لیں۔ کچھ متاثرین کا کہنا ہے کہ جب تک انھیں متبادل رہائش فراہم نہیں کی جاتی تب تک وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔

بنوں شہر کے مضافات میں لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول میں کل تین کمرے ہیں جس میں تیس افراد رہائش پزیر ہیں۔ اس سکول میں مقیم حضرت اللہ اور محمد صدیق نے بتایا کہ انھیں حکومت نے ’دھمکی‘ دی ہے کہ سکول خالی کر دیں۔

حضرت اللہ کے مطابق وہ متاثرین کے لیے قائم کیمپ ہر گز نہیں جائیں گے جبکہ بنوں شہر میں کرائے کے مکان ناپید ہیں اس لیے وہ کیمپوں میں جانے کی نسبت سڑکوں پر کیمپ لگا کر رہنے کو ترجیح دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں دو کمرے کا مکان پندرہ سے بیس ہزار روپے کرائے پر ملتا ہے جو ان کی دسترس میں نہیں ہے ۔

محمد صدیق کا کہنا تھا کہ کیمپوں میں بے پردگی ہے اور وہ اپنے بچوں کو کیمپ میں نہیں لے جا سکتے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمارے لیے رہائش کا انتظام کرے بصورت دیگر وہ یہ سکول خالی نہیں کریں گے ۔

محمد صدیق نے کہا کہ اگر حکومت سکول خالی کرانا چاہتی ہے تو انھیں ان کے علاقوں میں واپس بھیج دے جو علاقے شدت پسندوں سے صاف کرا لیےگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اپنے علاقے میں وہ مٹی کے ڈھیر پر بھی خیمہ لگانے کو تیار ہیں لیکن یہاں وہ کسی کیمپ میں نہیں جائیں گے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بنوں، کرک، لکی مروت، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریباً ایک ہزار سکولوں میں انیس ہزار سے زیادہ خاندان مقیم ہیں

اس بارے کمشنر بنوں ، ڈپٹی کمشنر بنوں ، آئی ڈی پیز کے لیے بنوں کے فوکل پرسن، وزیر تعلیم عاطف خان اور صوبائی حکومت کی ترجمان رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی سے رابطے کی با رہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ۔

بنوں میں ضلعی انتظامیہ کے دفاتر میں موجود عملے نے بتایا کہ متاثرہ افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ سکول خالی کر دیں ۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ انھوں نے کب تک یہ سکول خالی کرنے ہیں۔

سوات میں سن دو ہزار نو میں ہوئے فوجی آپریشن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں متاثرہ افراد نے سکولوں میں پناہ لی تھی لیکن ان کے تین ماہ کے قیام کے دوران سکولوں کی مرمت کی ضرورت پڑ گئی تھیں ۔ حکومت کے پاس اب تک ان متاثرہ افراد کو لیے کوئی متبادل انتظام نہیں ہے ۔

اسی بارے میں