فوج کی تعیناتی’حساس معاملہ‘، سماعت لارجر بینچ کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں آئین کے آرٹیکل 245 اے کے تحت فوج طلب کی ہے

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کرنے حکومتی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا لارجر بینچ کرے گا اور یہ معاملہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل شیخ احسن الدین کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابھی تک اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں امن وامان کے حالات ابھی اس مرحلے پر نہیں پہنچے کہ فوج کو طلب کیا جائے۔ شیخ احسن الدین کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں فوج طلب کرنے سے بیرونی دنیا میں یہ تاثر دیا جار رہا ہے جیسے حالات اُس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں پر منتخب حکومت حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بھی بداعتمادی پیدا ہوگی جس سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں آئین کے آرٹیکل 245 اے کے تحت فوج کو طلب کیا ہے جس کے تحت فوج کو حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 (3) کا نفاذ نہیں کیا گیا جو ہائی کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے کے مترادف ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوج کی تعیناتی کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کے اختیارات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ فوج کو اسلام آباد میں طلب کرنے کے نوٹیفیکیشن کے مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور ایسے معاملات کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کے لیے معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کو بھجوا دیا ہے۔ ان درخواستوں کی سماعت 11 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

اسی بارے میں