’عمران خان ایک کیفیت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیا آئندہ انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عمران خان کے پاس کوئی جادوئی فامولا ہے؟

پاکستان میں صحافیوں پر بھی ’ڈھیلے دن‘ آتے ہیں، جب کوئی بھی خبر ہاتھ نہیں آتی، اخبار بھرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔

یقیناً بھکاریوں کے بھی اسی طرح برے دن کئی آتے ہوں گے جب دھیلے کی کمائی نہیں ہوتی ہوگی۔ پولیس والے بھی شاید کسی روز تھانے میں مکھیاں مار مار کر ان کی نسل کشی میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہوں گے۔

لیکن ایک گروہ ایسا ہے جس کے پاس اپنے آپ کو ہمیشہ مصروف رکھنے بلکہ زندہ رکھنے کی بڑی آسانی ہے۔ مراد سیاست دانوں سے ہے۔

اس برادری کے پاس مسائل کے حل تو کم ہیں، بہتر قانون سازی کے نسخے ندارد ہیں، قوم کو درست سمت میں لے جانے کی صلاحیت ناپید ہے، لیکن کسی ایک نان ایشو کو ایشو بنانے میں شاید سیاسی رہنماؤں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ شاباش بھئی شاہ ہی باش۔

اب تحریک انصاف کے عمران خان کو ہی لے لیں۔ عام انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ اگر انتخابی ٹرائیبونل حل نہیں کر سکے، عدالتیں بے اثر ہیں اور انتخابی کمیشن بے بس تو ایسے میں کیا عوام کو سڑکوں پر لا کر یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر لیا جائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیا آئندہ انتخابات کے سلسلے میں تحریک انصاف نے کوئی ہوم ورک کیا ہے؟

فرض کریں کہ وزیر اعظم نواز شریف کی کسی وجہ سے اپنے ذاتی یا جماعتی فائدے کے بارے میں سوچنا بند کر دیتے ہیں اور آج مستعفی ہو کر نئے انتخابات کا اعلان کرتے ہیں تو کیا ضمانت ہے کہ تازہ انتخابات ’پاک، خالص اور بےداغ‘ ہوں گے؟

کیا اس کے لیے تحریک انصاف نے کوئی ہوم ورک کیا ہے؟ کیا اس کے ہاتھ وہ جادوئی فارمولا ہاتھ لگ گیا ہے کہ جس سے تازہ انتخابات صحت مند ہوں گے؟

تو بہتر نہیں کہ یوم آزادی کے دن لوگوں کی چھٹی خراب کرنے کے بجائے پہلے اپنا ہوم ورک کر لیں۔

پارلیمان کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی اس سمت میں اچھی پیش رفت تھی۔ اس میں بیٹھ کر کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے پہلے انتخابی نظام میں خامیاں اور کمزوریوں کی تشخیص کر کے ان کے حل کی قانون سازی کر کے پھر تازہ دم انتخابات کی بات کریں تو کیا زیادہ اچھا نہیں ہے؟

پٹھانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کیفیت کا نام ہے تو عمران خان بھی شاید اسی نوعیت کی کوئی چیز ہے۔ بس اپنے اوپر آج کل انھوں نے انتخابی دھاندلی کی کیفیت وارد کر کے عجیب سیاسی ماحول پیدا کر دیا ہے۔

صاف انتخابات کی بات وہ بھی کوئی زیادہ غلط نہیں کر رہے لیکن اس کے حصول کے لیے جو طریقہ اختیار کرنا چاہ رہے ہیں وہ یقیناً درست نہیں۔ معلوم نہیں کہ نواز شریف اور زرداری انھیں یہ یقین دہانی کیوں نہیں کروا رہے کہ خان صاحب تسلی رکھیں ’اگلی واری تواڈی۔‘

اسی بارے میں