’پاکستان فلسطین کے مسئلے کے حل کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PFO
Image caption وزراتِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا پاکستانی پارلیمان نے بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی ہے

پاکستان کی وزراتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ کے معاملے پر ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے، تاہم ابھی اسلامی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس بلانے کا معاملہ زیرِ غور نہیں ہے۔

اگر دعاؤں سے فرصت ملے تو۔۔۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز 12 اگست کو جدہ میں غزہ کے مسئلے پر اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم خان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر ہر ممکن کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس طلب کرنے سے متعلق کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے غزہ کے متاثرین کی مدد کے لیے دس لاکھ ڈالر امداد بھیجی ہے۔

ملک میں بعض دائیں بازو کی سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان سے اکلوتی جوہری قوت ہونے کے ناطے اسلامی دنیا کی رہنمائی کرتے ہوئے او آئی سی کا سربراہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرے رہی ہیں۔

ان جماعتوں کی شکایت ہے کہ پاکستان غزہ کے معاملے میں زیادہ اہم کردار ادا نہیں کر رہا۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ اس نے اس مسئلے پر عوامی فورمز میں اٹھایا ہے اور او آئی سی کے ساتھ مل کر فلسطینی اہداف کے لیے کوششیں کی ہیں۔‘

وزراتِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا: ’اس کے علاوہ پاکستانی پارلیمان نے بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی ہے۔ آئندہ ہفتے جدہ میں اجلاس بھی انھی کوششوں کا مظہر ہے۔‘

یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دس اگست کو اسلام آباد میں’لبیک یا قبلۂ اول‘ کے عنوان سے عوامی ریلی کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔ انھوں نے 17 اگست کو ملک بھر میں یومِ فلسطین منانے کا بھی اعلان کیا جبکہ جماعت اسی روز کراچی میں ’غزہ ملین مارچ‘ منعقد کرے گی۔ اس بارے میں وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

سراج الحق نے غزہ کے لیے ایک کروڑ روپے اور 60 ہزار ڈالر کی چھ ایمبولینسیں بھجوانے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان اس سے پہلے بھی غزہ کے محاصرے اور اسرائیلی فوج کی غزہ میں پیش قدمی کی مذمت اور اس مسئلے کا مذاکرات کے ذریچے پر امن حل کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں