’جمہوری حکومت کو جمہوری طریقہ ہی اپنانا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے فیصلے کو واپس لے: بزنجو

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے وفود نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد اُنھیں اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے مکان کو ’کنٹینر لگا کر کیے گئے محاصرے‘ کو ختم کرنے کا کہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے وزیر اعظم کے مستعفی ہونے اور قبل از وقت انتخابات کروانے کے مطالبے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سے مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور وفود کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعرات کے روز وزیراعظم اور اُن کی کابینہ کی اہم افراد کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی، نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے وفود شامل ہیں۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ منتخب جمہوری حکومت کو جمہوری طریقہ ہی اپنانا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو پاکستان پیپلز پارٹی کے موقف سے آگاہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے فیصلے کو واپس لے اور اس کے علاوہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ بھی بند کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 245 کے علاوہ بھی دیگر قوانین ہیں جن کا حکومت استعمال کر سکتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ انقلاب یا لانگ مارچ کی نوبت اُن ملکوں میں آتی ہے جہاں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز موجود نہ ہو۔ اُنھوں نے کہا کہ جب پاکستان میں حکومتیں تبدیل کرنے کا آئینی طریقہ موجود ہے تو پھر انقلاب مارچ یا لانگ مارچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت جمہوریت اور ملک کے آئین کے ساتھ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو بھی آئین کے خلاف اقدام کرے گا وہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔

میر حاصل خان بزنجو کا کہنا تھا کہ ملک میں جہوریت پہلے ہی بڑی مشکل سے آئی ہے اور سیاست دانوں اور بالخصوص عمران خان کو اپنے رویے میں لچک پیدا کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب سیاسی جماعتوں میں بھی اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ دس سال تک مارشل لا برداشت کریں اور پھر جمہوریت کی بحالی کے لیے کوڑے کھائیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد ابھی تک کوئی حکومتی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بعد ازاں ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ جماعت کے سینئیر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ دھرنے اور مظاہرے کرنا سب کا حق ہے لیکن دھرنے کے بعد بھی سیاسی بات چیت ہی کرنا ہو گی۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مسلے کا حل نکالنا چاہیے۔

ادھر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے انھوں نے وزیراعظم کے سامنے ایک فارمولا پیش کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وقت بہت کم ہے، 14 اگست آنے میں چند دن باقی ہیں، جوں جوں وقت قریب آئے گا فریقین کے ہاتھ سے وقت نکل جائے گا۔‘

سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس وقت بال مرکزی حکومت کے کورٹ میں ہے تاہم حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو طاقت کے استعال سے گریز کرنا چاہیے۔

’14 اگست کے بعد کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے، ماضی میں بھی ہم نے ایسا ہی دیکھا ہے۔‘

انھوں نے تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ تماشائی بننے کی بجائے آگے بڑھ کر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

سراج الحق نے یہ بھی کہا کہ اس لمحے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ لوگ ثالثی کے لیے پھر سعودی سفارت خانے کی طرف دیکھیں۔

اسی بارے میں