آزدی مارچ کے خلاف درخواست کی سماعت کے لیے فل بینچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست میں کہا گیا ہے کہ 14 اگست کوتحریک انصاف کے آزادی مارچ سے نقض امن کا خطرہ ہے

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے 14 اگست کو پاکستان تحریکِ انصاف کے اعلان کردہ آزادی مارچ کو روکنے کے لیے دی گئی درخواست کی سماعت کے لیے تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا۔

اس بینچ کی سربراہی جسٹس خالد محمود خان کریں گے جبکہ دیگر ممبران میں جسٹس انوار الحق اور جسٹس شاہد حمید ڈار شامل ہیں۔ امکان ہے کہ یہ بنچ اگلے ہفتے کے آغاز میں اس کیس کی سماعت کرے گا۔

چند روز قبل لاہور کے ایک شہری کامران نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ 14 اگست کوتحریک انصاف کے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والے مارچ کو روکا جائے کیونکہ یوم آزادی پر اس طرح کے مارچ سے نقضِ امن کا خطرہ ہے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ ایسا مارچ ملک کو یرغمال بنانے کی کوشش ہے۔

پہلے روز اس درخواست کی سماعت جسٹس خالد محمور خان نے کی، تاہم انھوں نے درخواست میں موجود اہم آئینی اور قانونی نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس درخواست کو چیف جسٹس کو واپس بھجوا دیا جس پر چیف جسٹس نے درخواست کی آئینی باریکیوں کا جائزہ لینے کے لیے فل بینچ تشکیل دیا۔

یہ آئینی اور قانونی باریکیاں ہیں کیا؟ اس پر ماہر قانون اظہر صدیق کہتے ہیں کہ ’عدالت پہلے تو اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ درخواست قابل سماعت ہے بھی یا نہیں اور وہ یہ دیکھے گی کہ اس درخواست پر سماعت سے آئین سے رو گردانی تو نہیں ہو رہی کیونکہ آئین کے مطابق ہرشخص کو نقل و حرکت کی آزادی ہے، لوگوں کو اکٹھے ہونے کا حق بھی حاصل ہے، ایسوسی ایشن بنانے کا حق ہے اور احتجاج کرنے کا بھی حق ہے۔‘

اظہر صدیق کے مطابق بین الاقوامی بنیادی انسانی حقوق کے مطابق بھی لانگ مارچ اور احتجاج کو نہیں روکا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ نقض امن کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ایڈووکیٹ اظہر صدیق کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نہ تو عدالت اور نہ ہی حکومت کسی قانون کے تحت اس طرح کی سرگرمی کو روک سکتی ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل آٹھ کے منافی ہے۔

ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے الزام لگایا کہ ’یہ درخواست حکومت کی چال ہے اور وہ عدالتوں کو استعمال کر کے لانگ مارچ کو روکنا چاہتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے بارے میں بھی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ اس کی ڈوریاں کہاں ہیں۔

اسی بارے میں