چینی سیاح کے اغوا کاروں کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شدت پسندوں کے گھروں کے قریب واقع ان کے تین ٹھکانوں کو بھی مسمار کردیا گیا ہے

ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کا کہنا ہے کہ چینی سیاح کے اغوا میں ملوث دو شدت پسند کمانڈروں کے خلاف کارروائی کر کے ان کے ٹھکانوں کو مسمار کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے والد اور بھائی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس سربراہ صادق حسین بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعے کی صبح پولیس نے قبائلی علاقے کے سرحد کے قریب تحصیل کلاچی کے علاقے کوٹ سلطان میں کارروائی کرتے ہوئے شدت پسند کمانڈر شیر علی اور ان کے ساتھی عبدالرحمان عرف دوری کے مکانات پر چھاپے مارے اور ان تلاشی لی گئی۔

انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے مکانوں کے قریب واقع ان کے تین ٹھکانوں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق سرچ آپریشن میں عسکریت پسندوں کے والد اور ان کے ایک بھائی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے قائم کردہ مدرسے کی بھی تلاشی لی گئی جہاں سے فرقہ واریت کو ہوا دینے والا مواد برآمد کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ دونوں کمانڈر چینی سیاح ہونگ بوڈانگ کے اغوا میں ملوث ہیں اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ چینی سیاح ہونگ بوڈانگ کو تقریباً دو ماہ قبل مسلح افراد نے ڈیرہ اسماعیل خان کے درابن روڈ سے اغوا کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے چینی شہری سائیکل کے ذریعے دنیا کا سفر طے کرنے کےلیے ڈیرہ اسماعیل خان سے بلوچستان کی طرف جارہے تھے کہ انھیں اغوا کر لیاگیا۔ پولیس کے مطابق چینی سیاح نے اپنے سفر کے بارے میں پاکستان یا چینی حکام کو اطلاع نہیں دی تھی۔

اسی بارے میں