ڈیرہ بگٹی سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تشدد زدہ لاشیں ضلع ڈیرہ بگٹی میں ٹلی مٹ کے علاقے سے بر آمد ہوئیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ شہر کوئٹہ سے اتوار کو ایک چھاپے کے دوران 110 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

تشدد زدہ لاشیں ضلع ڈیرہ بگٹی میں ٹلی مٹ کے علاقے سے بر آمد ہوئیں۔

لیویز فورس کے مطابق دونوں افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن کا تعلق بگٹی قبیلے کی ذیلی شاخ حمزانی سے ہے۔

لیویز فورس کے مطابق دونوں افراد کو گولی مارکر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔

دریں اثنا بلوچ قوم پرست تنظیم بلوچ نیشنل وائس نے بی بی سی کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے نیوکاہان ہزار گنجی میں فورسز نے ایک مرتبہ پھر چھاپہ مارا ہے۔

اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس چھاپے کے دوران ڈیڑھ سو کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ سریاب پولیس نے ہزار گنجی میں چھاپے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں سے 110 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

دوسری جانب گذشتہ شب خاران میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو افرادہلاک ہوئے۔بلوچستان نیشنل فرنٹ نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری سکیورٹی فورسز پر عائد کی ہے۔

کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق یہ دونوں افراد ان مسلح لوگوں کے حملے میں ہلاک ہوئے جنھوں نے یہاں ایک چیک پوسٹ پر حملہ کیا تھا۔

ادھر سبی کے علاقے ڈنگڑا میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچایا۔

کوئٹہ میں ریلوے حکام کے مطابق اتوار کی صبح ریلوے ٹریک کی مرمت کرکے ٹرینوں کی آمد و رفت بحال کردی گئی۔

ریلوے ٹریک کو اڑانے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ ریپبلیکن گارڈز نے قبول کی ہے۔

علاوہ ازیں کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے آواران اور کالعدم بلوچ ریپبلیکن آرمی نے ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے لیکن سرکاری سطح پر ان حملوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں