’صادق اور امین نہیں‘، وفاقی وزیر نااہل قرار

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption غلام مرتضیٰ جتوئی سابق وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے فرزند ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں الیکشن ٹربیونل نے آئین کے آرٹیکلز باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق ’صادق اور امین‘ نہ ہونے کے الزام میں مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر غلام مرتضیٰ جتوئی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے غلام مرتضیٰ جتوئی کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی جگہ پاکستان پیلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار بیھن کی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری کرنے کا حکام جاری کیا ہے۔

الیکشن ٹربیونل کے سربراہ ظفر شیراوانی نے پیر کو یہ فیصلہ این اے 211 نوشہرو فیروز پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار بیھن کی درخواست پر جاری کیا۔

ذوالفقار بیھن نے انتخابی دھاندلیوں اور ایجنٹوں کو یرغمال بنانے کے الزامات کے ساتھ دعوٰی کیا تھا کہ غلام مرتضیٰ جتوئی صادق اور امین نہیں ہے کیونکہ انھوں نے گریجویٹ ہونے کا دعویٰ کیا تھا لیکن وہ اس کا ثابت نہیں کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2002 کے عام انتخابات میں غلام مرتضیٰ جتوئی نے مدرسے کی سند پیش کی تھی اور اس کوگریجویشن کے برابر قرار دیا لیکن انہیں نااہل قرار دیکر نامزدگی فارم مسترد کر دیا گیا اور بعد میں انھوں نے گریجویشن کی۔

درخواست گزار کے مطابق غلام مرتضیٰ جتوئی نے اثاثوں کی مکمل تفصیلات بھی بیان نہیں کیں، ان کی بیوی کے مورو ٹیکسٹائل ملز میں شیئرز ہیں جن کو انھوں نے ظاہر نہیں کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں۔

اسی حلقے میں ذوالفقار علی بیھن اور غلام مرتضیٰ جتوئی میں 2008 کے عام انتخابات متیں بھی مقابلہ ہوا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ یہ سارے معاملات 2008 کے انتخابات کے بعد بھی اٹھائے گئے لیکن اسمبلی کی مدت پوری ہوجانے کی وجہ سے ان کی درخواست غیرموثر ہوگئی۔

غلام مرتضیٰ جتوئی کے وکیل نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ جن اثاثوں کا حوالہ دیا گیا ہے وہ غلام مرتضیٰ کے نہیں اور ان کے موکل گریجویٹ ہیں جس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

انتخابی ٹربیونل نے غلام مرتضیٰ کے موقف سے اتفاق نہیں کیا اور انھیں نااہل قرار دیکر دوسرے نمبر پر آنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار بیھن کو کامیاب قرار دیکر ان کی کامیاب کا نوٹیفیکشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

غلام مرتضیٰ جتوئی سابق وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کے فرزند ہیں۔گذشتہ انتخاب انھوں نے اپنی جماعت نیشنل پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑا تھا جس کو بعد میں مسلم لیگ ن میں ضم کر دیا گیا، ان دنوں وہ وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہیں اور ان کے پاس صنعت و پیدوار کا قلمدان ہے۔ اس سے پہلے 1988 کے عام انتخابات میں ذوالفقار بیھن کے والد رحمت اللہ بیھن نے غلام مرتضیٰ جتوئی کے والد غلام مصطفیٰ جتوئی کو شکست دی تھی۔

حالیہ عام انتخابات کے بعد سندھ میں یہ پانچویں نااہلی سامنے آئی ہے۔ اس سے پہلے پیپلز پارٹی ہی کے ٹکٹ پر ضلع لاڑکانہ سے صوبائی حلقے پر کامیاب الطاف انڑ، نوابشاہ سے غلام قادر چانڈیو، کراچی سے کامیاب قرار دیے گئے مسلم لیگ نون کے امیدوار عرفان اللہ مروت، تحریک انصاف کے حفیظ الدین کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں