سیاسی صورتحال، ’وزیراعظم قوم سے خطاب کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’حکومت کا کیا قصور کیا ہے، پہلے یہ بتاؤ جو اس طرح آپ یلغار کر رہے ہو‘

وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف منگل کی شام قوم سے خطاب میں موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

وزیراعظم کے مشیر خصوصی عرفان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم اپنے خطاب میں حکومت کی کارکردگی قوم کے سامنے رکھیں گے اور سیاسی صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

احتجاج کا مقصد فوج کو بلانا نہیں ہے: عمران خان

’چند سو ووٹ لینے والے انقلاب نہیں لا سکتے‘

عرفان صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال وزیر اعظم کے خطاب کا وقت شام آٹھ بجے طے ہوا ہے۔

وزیر اعظم یہ خطاب ایسے وقت کر رہے ہیں جب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ملک میں 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کی قیادت پر متعدد الزامات لگائے۔

دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اتوار کو لاہور میں ’یومِ شہدا‘ کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست کو ’انقلاب مارچ‘ اور ’آزادی مارچ‘ اکٹھے چلیں گے۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سابق جج خلیل الرحمن رمدے، پنجاب سے الیکشن کمیشن کے رکن ریاض کیانی اور سابق نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے دھاندلی کروائی۔

اس سے قبل آج صبح نواز شریف نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں وژن 2025 پروگرام کا افتتاح کیا جس میں انھوں نے کہا کہ وہ حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عمران خان کی جماعت کے تحفظات سننے کے لیے اور ان کے پاس جانے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ جس طرح کا انقلاب یہ لانا چاہتے ہیں وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’قوم کو ان باتوں کا نوٹس لینا چاہیے، حکومت کا کیا قصور کیا ہے، پہلے یہ بتاؤ جو اس طرح آپ یلغار کر رہے ہو۔‘

ادھر کمشنر اسلام آباد کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے نام ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں انھیں مطلع کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی بھی ریلی یا اجتماع کے لیے متعلقہ انتظامیہ کو قبل از وقت آگاہ کرنا ضروری ہے، تاہم تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ اس کی ضرورت نہیں سمجھتی۔