’بیلٹ پیپر تقیسم کرنے کا الزام بے بنیاد ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تحریک انصاف نے انتخابات میں بدانتظامی اور دھاندلیوں کے حوالے سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 60 کے قریب حلقوں کی شکایت کی تھی: شیر افگن

پاکستان الیکشن کمیشن کے سینیئر افسران نے کہا ہے کہ نجی پرنٹنگ پریس میں بیلٹ پیپر شائع کر کے تقسیم کرنے کا الزام عائد کر کے پنجاب میں الیکشن کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاکستان الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری شیر افگن، پنجاب کے صوبائی الیکشن کمشنر محبوب انور اور سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر طارق قادری نے کراچی میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اظہار کیا۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے الیکشن کمیشن کے ان افسران پر سنگین نوعیت کا الزامات عائد کیے تھے۔

ان افسران کا کہنا تھا کہ یہ محض اتفاق ہے کہ وہ کراچی میں موجود ہیں اور انھوں نے ذاتی نوعیت کے الزامات کا جواب دینا ضروری سمجھا تاکہ حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

ایڈیشنل سیکریٹری شیر افگن کا کہنا تھا کہ عمران خان کا یہ الزام غلط ہے کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کو موجود حکومت نے دو بار توسیع دی ہے۔

’ایک بار انھیں توسیع گذشتہ حکومت نے دی تھی اور عام انتخابات کے بعد جب سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تو سیکریٹری الیکشن کمیشن اور پنجاب کے صوبائی الیکشن کمشنر محبوب انور کو توسیع دی گئی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عمران خان عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلیوں کا ذکر مختلف موقعوں پر کرتے رہتے ہیں

انھوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے سینیئر افسران کی ضرورت ہے کیونکہ بلدیاتی انتخابات عام انتخابات سے بڑا چیلنج ہوتے چونکہ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے اس لیے وہاں بھی سینیئر افسران کی ضرورت تھی۔

سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر طارق قادری نے عمران خان کے اس الزام کو مسترد کیا کہ انھوں نے عمران سے ملاقات کر کے یہ کہا تھا کہ پنجاب میں میچ فکس ہوگیا ہے اور ان کا تبادلہ سندھ کیا جا رہا ہے۔

قادری نے یہ بھی دعویٰ کیا انہوں نے مسلم لیگ نون کے امیدوار پرویز ملک سے ملاقات نہیں کی تھی تاہم یہ درست ہے کہ انتظامی امور کے حوالے سے سیاستدانوں سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کی پنجاب میں تعیناتی عارضی بنیادوں پر تھی جس کے بعد ان کا سندھ تبادلہ کیا گیا جو معمول کے مطابق تھا۔

یاد رہے کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پنجاب کے رکن جسٹس ریاض کیانی کی ہدایت پر طارق قادری نے پرویز ملک سے ملاقات کی، جس نے لاہور کی ایک جگہ سے تحریک انصاف کے بینر ہٹانے کو کہا لیکن قادری نے کہا کہ وہاں مسلم لیگ نون کے بھی بینر و پوسٹر موجود ہیں کیا ان کو بھی ہٹایا جائے جس کی بعد طارق قادری کا سندھ تبادلہ کر دیا گیا اور قادری نے ان سے مل کا کہا تھا کہ پنجاب میں میچ فکس ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق صدر آصف زرداری نے الیکشن میں مبینہ دھاندلیوں کا ذکر کیا تھا تاہم انتخابات کے نتائج تسلیم کیے تھے

پنجاب کے صوبائی الیکش کمشنر انور محبوب کا کہنا تھا کہ ان کی پنجاب میں سال 2011 سے تعیناتی تھی لیکن بعد میں انھیں ایک سرکاری کام کے لیے کراچی تعینات کیا گیا لیکن اس لیٹر پر یہ تحریر تھا کہ یہ مشق پوری ہونے کے بعد انھیں واپس پنجاب تعینات کر دیا جائے گا۔

انور محبوب نے واضح کیا کہ ان کی پنجاب کے چیف سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری سے کوئی بات نہیں ہوئی کیونکہ بیلٹ پیپر صرف سکیورٹی پرنٹنگ پریس میں چھاپے جاتے ہیں اور اس کے لیے سیاہی، پیپرز مارکیٹ میں دستیاب نہیں انھیں خاص طور پر بنایا جاتا ہے، الیکشن سے پہلے بیلٹ پیپر کا تعین بھی کر دیا جاتا ہے اس کے بعد ایک پیپر کا بھی اضافہ ممکن نہیں۔

انھوں نے کہا یہ الزام غلط ہے کہ بیلٹ پیپر نجی پریس میں شائع کرائے گئے، پنجاب بڑا صوبہ ہے اس لیے لاہور کے علاوہ اسلام آباد میں بھی سکیورٹی پرنٹنگ پریس سے بھی بیلٹ پیپر کی چھپائی کی گئی۔ قادری کے مطابق یہ ضرور ہے کہ بیلٹ پیپزر کے کاؤنٹر فائلیں وہاں سے منگوانے کے لیے پنجاب حکومت سے ملازم مانگے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عام انتخابات کے دوران فوج کو سکیورٹی انتظامات کے لیے طلب کیا گیا تھا

انور محبوب نے واضح کیا کہ جسٹس ریاض کیانی نے انھیں کبھی کسی غلط کا کہا اور نہ انھوں نے کیا ہے اور نہ ہی کبھی کریں گے۔

ایڈیشنل سیکریٹری شیر افگن کا کہنا تھا کہ وہ بطور سرکاری ملازم قومی ذمے داری ادارے کرتے ہیں وہ کسی سی سے بھی ٹکراؤ نہیں چاہتے یہ الزامات ذاتی نوعیت کے ہیں اس لیے انھوں نے اس کی وضاحت کرنا ضروری سمجھا۔

انھوں نے بتایا کہ تحریک انصاف نے انتخابات میں بدانتظامی اور دھاندلیوں کے حوالے سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے 60 کے قریب حلقوں کی شکایت کی تھی، ان میں سے الیکشن ٹربیونل 30 پر فیصلے دے چکے ہیں جبکہ باقی ابھی زیر سماعت ہیں۔

اسی بارے میں