بی ایس ایف کی فائرنگ، بھارتی سفارتکار کی دفترِ خارجہ طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ چند روز سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارت کی جانب سے سیالکوٹ سیکٹر پر بھارتی سکیورٹی فورس کی جانب سے فائرنگ کے سلسلے میں بھارتی نائب ہائی کمشنر کو طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر سیالکوٹ کے نزدیک ورکنگ بانڈری پر پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس یعنی بی ایس ایف کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک پاکستانی عورت ہلاک جبکہ دونوں اطراف کے سات شہری زخمی ہوگئے تھے۔

سرحدی حفاظت پر مامور دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز نے ایک دوسرے پر پہلے حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دفترِ خارجہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ یہ ناپسندیدہ واقعات ایسے وقت پر پیش آ رہے ہیں جب دونوں طرف کی قیادت نے باہمی تعلقات میں بہتری کی خواہش ظاہر کر رکھی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اس سال جولائی سے اب تک اس نوعیت کا یہ 54 واں واقعہ ہے۔

پاکستان رینجرز کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سیالکوٹ کے علاقے چاروا سیکٹر میں ورکنگ بانڈری پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب بی ایس ایف نے بلا اشتعال فائرنگ کی جبکہ رینجرز نے جوابی کارروائی کی۔

پاکستان رینجرز کےمطابق انڈین فائرنگ میں مارٹر گولوں، مشین گن اور دیگر اسلحے کا استعمال کیا گیا جس سے قریبی آبادی کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں ایک 45 سالہ خاتون حنیفہ بی بی ہلاک ہوئی جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ کئی مکانات کو نقصان بھی پہنچا اور پالتوجانور ہلاک ہو گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ پاکستانی رینجرز کی فائرنگ سے تین بھارتی دیہات کوڈوال، پنڈی اور سہاگ کو نقصان پہنچا اور دو شہریوں کے ساتھ ساتھ بی ایس ایف کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔

میڈیا رپورٹوں کےمطابق پاکستان اور بھارت کی سرحدی فورسز کےدرمیان فائرنگ کا تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اگلے ہی روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کارگل اور لیہ کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ توانائی کے دو منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔

سیالکوٹ کی ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ چندر روز سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں