نواز شریف کی موجودگی میں شفاف تحقیقات ممکن نہیں: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چیف جسٹس ناصر الملک کی نگرانی میں کمیشن بٹھائیں اور نگراں حکومت بنائیں: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور الیکشن کمشن کے مستعفی ہونے کی صورت ہی میں سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے اعلان کے بعد منگل کی رات لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وہ ہر حال میں 14 اگست کو اسلام آباد پہنچیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت دارالحکومت میں آ کر اپنا دھرنا ضرور دے گی اور حکومت پر منحصر ہے کہ یہ احتجاج پرُ امن ہوگا یا نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اور وزیراعظم فوری طور پر مستعفی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ چیف جسٹس ناصر الملک پر اعتماد ہے اور ’ان کی نگرانی میں کمیشن بٹھائیں اور نگران حکومت بنائیں۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سارے قانونی راستے اختیار کیے اور تمام دروازے کھٹکھٹائے لیکن انصاف نہیں ملا۔

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ اب عوام کے سمندر کو حکومت نہیں روک سکتی اور اگر پولیس نے تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے خلاف کچھ کیا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

انھوں نے حکومت کو مخاطب کر کے کہا کہ ’فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ ہمیں آرام سے آنے دیں گے یا پھر کنٹینرز رکھ کر جو آپ راستہ روک رہے ہیں، آپ اپنی قبر کھودیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وہ تبدیلی کے لیے اپنا خون دینے کے لیے تیار ہیں: ’میں مارچ میں سب سے آگے ہوں گا اور اگر اس احتجاج میں مجھے کچھ ہوا تو نوجوان نواز شریف کو نہیں چھوڑیں گے۔‘

آزادی اور انقلاب مارچ کی تیاریاں

ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کے آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کے لیے منگل کو تیاریاں جاری رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسلام آباد میں ریڈ زون کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے

لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مارچ کو ناکام بنانے کے لیے صوبہ پنجاب کے تمام بڑے شہروں کے خارجی داخلی راستوں پر کنٹینر پہنچائے جارہے ہیں اور پولیس ناکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ایک وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاہر القادری کے مسلح جتھے کو اسلام آباد جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لاہور میں پولیس نے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے مرکزی دفتر کو جانے والے تمام راستوں پر کنٹینرز اور پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں ریڈ زون کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے جبکہ کشمیر ہائی وے اور شہر کی مختلف سڑکوں پر بھی کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔

پشاور سے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے لیے خیبر پختونخوا سے جماعت کے چار لاکھ ارکان اسلام آباد جائیں گے۔

خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے مشیر ضیا اللہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں چار رجسٹریشن پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں منگل تک 50 ہزار افراد نے مارچ میں شرکت کے لیے رجسٹریشن کرا لی ہے۔

ضیاءاللہ آفریدی نے بتایا کہ ان افراد کو لے جانے کے لیے ڈھائی ہزار کوچیں کرائے پر حاصل کی گئی ہیں جبکہ بسیں، گاڑیاں اور موٹرسائیکل ان کے علاوہ ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔

نامہ نگار کے مطابق پشاور شہر میں مختلف مقامات پر عمران خان کی تصاویر والے پوسٹرز اور پینافلیکس آویزاں کیے گئے ہیں جن میں لوگوں کو آزادی مارچ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے

ضیاء اللہ آفریدی نے کہا کہ ’اس مارچ کے لیے صوبائی حکومت کے وسائل استعمال نہیں ہو رہے بلکہ یہ لوگوں کا جنون ہے۔‘

پی ٹی آئی کی جانب سے اس مارچ میں شرکت کرنے والے افراد نے کہا گیا ہے کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ آئیں اور کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضرورت کا سامان بھی ساتھ لائیں۔

اسی بارے میں