ملک کی بقا اور سالمیت جمہوریت سے وابستہ ہیں: قرارداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کو چھیڑنے والوں کے خلاف کھلی جنگ کی جائے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کی بقا اور سالمیت جمہوریت سے وابستہ ہیں۔

یہ قرارداد منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے پیش کی تھی جسے ایوان میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

اس سے پہلے منگل کے روز قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی کو معطل کرکے موجودہ سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور ہم یہاں سوئے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جو بھی شخص جمہوریت کے خلاف سازش کرے تو اس کے خلاف بغاوت جائز ہے۔

محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں پارلیمنٹ اور جمہوریت کو چھیڑنے والوں کے خلاف کھلی جنگ کی جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہرالقادری سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھی رہے ہیں۔ اُن کے مطابق اگر طاہرالقادری دو سو سے زائد ڈنڈا بردار فوج لے کر آگئے تو عمران خان بھی امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نواز شریف کے ساتھ نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عبدالستار بچانی نے کہا کہ طاہر القادری ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ القاعدہ اور القادریہ میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس کے خلاف بھی اُسی طرح کارروائی ہونی چاہیے جس طرح القاعدہ کے خلاف کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پاکستانی افواج شدت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہے اور پوری پاکستانی قوم کو اُن کے ساتھ ہونے کی بجائے اُنھیں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری اپنے چند ہزار کارکنوں کے سامنے خود کو شہید ہونے پر شریف برادران سے بدلہ لینے کی نصیحت کر رہے ہیں۔

عبدالستار بچانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہلاک کیے جانے کے باوجود بھی اُنھوں نے کبھی بھی کارکنوں کو بدلہ لینے کے لیے نہیں اُکسایا۔ اُنھوں نے کہا کہ بےنظیر بھٹو نے قتل سے پہلے اُن افراد کے نام لیے تھے جن سے اُن کی جان کو خطرہ ہے لیکن اُنھوں نے کبھی بھی اپنے کارکنوں سے نہیں کہا کہ وہ اُن کا بدلہ لیں۔

پارلیمانی امور کے وزیر مملکت افتاب شیخ کا کہنا تھا کہ اگر طاہر القادری کو ملک سے محبت ہے تو پھر وہ کینیڈا کی شہریت ترک کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ طاہرالقادری ملک میں لاشیں گرانے کی باتیں کر رہے ہیں اور حکومت کبھی بھی ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

قومی اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اپنی جماعت کو ایک ایسے شخص (طاہرالقادری) کی بی ٹیم بنا دیا ہے جو ملک کے آئین اور نظام کو نہیں مانتے۔

اُنھوں نے کہاکہ عمران خان دوہرا معیار نہ اپنائیں اور کھل کر کہیں کہ وہ موجودہ نظام اور آئین کو مانتے ہیں یا نہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ احسن اقبال نے اسلام آباد میں رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو درپیش پر معذرت بھی کی۔

اسی بارے میں