’جسے اسلام آباد آنا ہو، اجازت لے پھر آئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption کسی پرتشدد ہجوم کے مطالبے پر وزیر اعظم مستعفی نہیں ہوں گے: چوہدری نثار

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت کو آئینی احتجاج پر اعتراض نہیں اور آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے متعلق عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو غیر آئینی طریقے سے لانگ مارچکرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔

اسلام آباد سِیل، پولیس اور انتظامیہ تیار

اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس میں بدھ کی شب ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ حکومتی سیاسی عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور کوئی بھی جماعت ضلعی انتظامیہ کی اجازت سے کہیں بھی جلسہ جلوس کر سکتی ہے۔

انھوں نے تحریکِ انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ ’اگر کوئی جماعت، کوئی پارٹی، کوئی گروہ کسی قسم کا سیاسی اجتماع کرنا چاہتا ہے، مارچ کرنا چاہتا ہے، کوئی اور سیاسی سرگرمی کرنا چاہتا ہے تو ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق جہاں بھی جانا چاہتا ہے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے۔‘

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انتظامیہ ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ اس احتجاج کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’قانون اور آئین کے دائرے میں ضلعی انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ مارچ کے مقاصد آئین اور قانون کے دائرے میں ہے، کیا اسے سکیورٹی تحفظ دیا جا سکتا ہے اور اس میں متعلقہ پارٹی سے کیا ضمانتیں مطلوب ہیں، اور شہریوں کی زندگی میں تعطل پیدا نہ ہو۔‘

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے لاہور یا اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو لانگ مارچ یا انقلاب مارچ کرنے سے متعلق کوئی تحریری درخواست نہیں دی۔

اس ضمن میں اسلام آباد کی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کی قیادت کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی طرف سے لانگ مارچ کے لیے ابھی تک کوئی درخواست نہیں دی گئی۔

اپنے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے اس سے قبل بھی پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کو جلسے جلوسوں کی اجازت دی تھی البتہ کوئی بھی حکومت انتشار کی اجازت نہیں دے سکتی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ کسی پرتشدد ہجوم کے مطالبے پر وزیر اعظم مستعفی نہیں ہوں گے اور نہ ہی اسمبلیاں ختم ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی گروہ اپنے غیر آئینی اور غیر قانونی مطالبات رکھے اور ان کے پورے نہ ہونے پر دارالحکومت پر یلغار کر دے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج دو ماہ سے جنگ لڑ رہی ہے لیکن اس صورتحال میں پوری قوم کی توجہ جنگ کے بجائے لانگ مارچ پر مرکوز ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد میں چوہدری نثار کی نیوز کانفرس شروع ہوتے ہی عمران خان کی لاہور میں نیوز کانفرس شروع ہو گئی

وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے 15 کے قریب سکیورٹی الرٹ جاری کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی اور انقلاب مارچ کے موقع پر شدت پسندی کی کارروائیاں ہونے کے امکانات بہت حد تک موجود ہیں۔

اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو غیر آئینی طریقے سے لانگ مارچ کرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔

بدھ کی شام عدالت کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جسٹس محمد خالد محمود خان کی سربراہی میں فل بینچ نے ملک میں غیریقینی صورتحال اور یومِ آزادی کے تقدس کے تناظر میں ان دونوں جماعتوں کو کسی بھی غیر آئینی طریقے سے انقلاب یا آزادی مارچ شروع کرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔

تاہم بیان میں غیر آئینی طریقے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

اسی بارے میں