فوجی مداخلت کا کوئی امکان نہیں: وزیر دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومت کے پاس ابھی چار سال ہیں: خواجہ آصف

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان اچھے تعلقات ہیں اور ملک میں فوجی مداخلت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ’بلوم برگ‘ کو دیے گئے انٹریو میں خواجہ آصف نے کہا کہ فوج اور حکومت کے درمیان تمام پالیسی امور، بشمول خارجہ پالیسی میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

’مجھے ملکی سیاست میں فوجی مداخلت یا فوج کے ہاتھوں حکومت کا تختہ الٹائے جانے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے ابھی چار برس باقی ہیں اور اس دوران اس حکومت کو اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ شب وزیراعظم محمد نواز شریف نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کے خلاف 14 اگست کو آزادی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے جس کی منزل اسلام آباد ہے۔ تحریکِ انصاف کا موقف ہے کہ یہ احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک میاں نواز شریف مستعفی نہیں ہو جاتے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے اس بات پر منقسم ہے کہ کیا ملک کی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کو مداخلت کرنا پڑے گی جس سے نواز حکومت کا تختہ الٹ تو نہیں جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مٹھی بھر افراد کو کروڑوں عوام کا مینڈیٹ یرغمال بنانے نہیں دیا جائے گا: نواز شریف

منگل کی شب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر قوم سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کا تین رکنی کمیشن بنایا جائے گا۔

انھوں نے چیف جسٹس سے اس کمیشن کی تشکیل کی درخواست کی جو دھاندلی کے الزامات کی مکمل چھان بین کے بعد اپنی حتمی رائے دے۔

اس پیشکش کے جواب میں منگل کی رات لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اور الیکشن کمشن کے مستعفی ہونے کی صورت میں ہی سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بات کا فیصلہ قوم پر چھوڑتے ہیں کہ حکومت کے اس اقدام کے بعد کیا کسی احتجاجی تحریک کی گنجائش رہ جاتی ہے یا نہیں۔

وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات کی ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی مبصرین نے بھی نگرانی کی تھی اور کسی نے بھی انتخابات کو غیر شفاف قرار نہیں دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک خاص جماعت کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سنتا آ رہا ہوں اور اب ان بے بنیاد الزامات کی وجہ سے بے یقینی کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔‘

نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہے: ’ہر قومی معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ پر امن احتجاج سب کا آئینی حق ہے لیکن کسی کو بھی انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب فیصلے سڑکوں پر نہیں بلکہ پارلیمان میں ہوں گے اور مٹھی بھر افراد کو کروڑوں لوگوں کا مینڈیٹ یرغمال بنانے نہیں دیا جائے گا۔

نواز شریف نے گذشتہ 14 ماہ کے دوران ملک کی معیشت کی بہتری اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات کا ذکر بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جون 2013 میں بحران میں گھرے ملک کو مایوسی کی بجائے چیلنج سمجھ کر سنبھالا۔

نواز شریف نے کہا: ’ہم ایک طرف ملک کو ترقی کی جانب لے کر جا رہے ہیں دوسری جانب کچھ لوگ کھوکھلے نعروں اور احتجاجی مظاہرے کر کے ترقی کو روک رہے ہیں۔

’وہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ تو بتائیں۔ آپ لوگ پوچھیں ان سے کیوں ترقی میں رخنے ڈال رہے ہیں؟ پوچھیں ان سے کیوں لانگ مارچ کر رہے ہیں؟‘

انھوں نے میڈیا کے حوالے سے کہا کہ میڈیا اس سیاسی صورتحال پر اپنے کردار پر بھی نظر ڈالے اور دیکھے کہ کچھ عناصر اس کی آزادی کو اپنے پرتشدد اور غیر آئینی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کر رہے۔

اسی بارے میں