لاہور ہائی کورٹ کی غیر آئینی طریقے سے لانگ مارچ یا دھرنے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جگہ جگہ کنٹینر لگا دیے گئے ہیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو غیر آئینی طریقے سے لانگ مارچ کرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔

یہ بات بدھ کی شام عدالت کے میڈیا سیل کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان کے مطابق جسٹس محمد خالد محمود خان کی سربراہی میں فل بینچ نے ملک میں غیریقینی صورتحال اور یومِ آزادی کے تقدس کے تناظر میں ان دونوں جماعتوں کو کسی بھی غیر آئینی طریقے سے انقلاب یا آزادی مارچ شروع کرنے یا اسلام آباد میں دھرنا دینے سے روک دیا ہے۔

تاہم بیان میں غیر آئینی طریقے کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

لاہور سے نامہ نگار منا رانا کے مطابق تحریک انصاف کے وکیل ایڈوکیٹ احمد اویس نے عدالتی حکم کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے لانگ مارچ کو غیر آئینی قرار نہیں دیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ عدالت نے کہا ہے کہ ’ہماری پارٹی تو پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ ہم سب کچھ آئین کے اندر رہ کر کریں گے۔ اگر کسی کی غیر آئینی دھرنا دینے کی نیت ہو گی تو اس پر یہ پابندی ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’عدالت کےاس فیصلے میں یہ بات واضح نہیں کہ کون سی بات آئینی ہو گی اور کونسی غیر آئینی۔‘

احمد اویس نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے استعفی مانگنا یا نئے انتخابات کی بات کرنا تو آئینی بات ہے جبکہ احتجاج ہر پارٹی کا حق ہے اسے روکا نہیں جا سکتا اس لیے اس کو روکنے سے آئین کے آرٹیکل پندرہ، سولہ اور نو کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے صوبے میں لانگ مارچ کے راستے بند کرنے کے لیے لگائے جانے والے کنٹینرز کو ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا اور اس فیصلے پر حکومت پنجاب نے نظر ثانی کی اپیل دائر کی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانہ کا موقف ہے کہ عدالت نے ان کی بات مکمل طور پر نہیں سنی اس لیے وہ اس پر نظر ثانی کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لاہور میں پولیس اہلکار ماڈل ٹاؤن میں طاہر القادری کے گھر کے باہر ایک کنٹینر کے اوپر بیٹھے ہیں

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کنٹینر سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر لگائے گئے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بدھ کی صبح صوبے میں کنٹینر ہٹانے جانے کی درخواست کی سماعت کی تھی۔

اس تین رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس خالد محمود ہی کر رہے تھے جبکہ دیگر ججوں میں جسٹس مسعود جہانگیر اور جسٹس ارشد تبسم شامل تھے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو منگل کو کہا تھا کہ صوبے کی سکیورٹی اور کنٹینروں کی تعداد سے عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ تاہم آئی جی پنجاب کی جانب سے کنٹینروں کی تعداد نہ بتا سکنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت کے مطابق سکیورٹی کے نام پر لوگوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔

عدالت کے مطابق انتظامیہ کنٹینر لگانے کی کوئی قانونی توجیح پیش نہیں کر سکی۔ عدالت نے اپنے حکم میں فوری طور پر تمام شہروں سے کنٹینر ہٹانے کا حکم جاری کیا۔

جسٹس محمود بھٹی کی سربراہی میں اسی تین رکنی بنچ نے منگل کو تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریاں روکنے کا بھی حکم جاری کیا تھا۔

اسلام آباد/راولپنڈی

تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ سے ایک دن قبل پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کی انتظامیہ نے دونوں شہروں کے مختلف علاقوں کو سیل کر دیا ہے۔

روات، بارہ کہو اور ترنول سمیت دارالحکومت کی جانب آنے والے مرکزی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

البتہ دونوں شہروں کے بیچ میں سفر کرنے کے لیے راستے جزوی طور پر کھلے ہیں۔

حکام کے مطابق ان شاہراہوں کو رات کسی وقت بند کر دیا جائے گا اور دونوں شہروں کی پولیس کے اہلکار مرکزی شاہراہوں پر تعینات ہوں گے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہر میں کنٹینروں کو ہٹانے اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی رہائی سے متعلق دائر درخواست پر سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہ درخواست اسلام آباد سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے دائر کی تھی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 14 اگست کو آزادی مارچ کے اعلان کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی جماعت کے کارکنوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں جگہ جگہ کنٹینر کھڑے کر دیے گئے ہیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ عدالت گرفتار کارکنوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی جاری کرے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کو نظر بند نہیں کیا جائے گا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ لاکھوں افراد کی جانب اسلام آباد میں متوقع آمد اور ان کی سکیورٹی کے انتظامات ایک حساس معاملہ ہے جس پر حکومتی موقف سنے بغیر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں