’مودی کا بے بنیاد الزام، پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف پوری طرح تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے

پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے بارے میں دیے جانے والے حالیہ بیان کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ ’پاکستان ہمیشہ ہی دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہوا ہے۔‘

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز منگل کو کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان پر در پردہ جنگ کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت بندوقوں کی گھن گرج نہیں، ترقی چاہتا ہے۔

انھوں نے منگل کو لداخ میں عوامی خطاب کے دوران پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارت کے کنٹرول والے علاقوں میں مقامی شدت پسندوں کی پشت پناہی کر کے ’پراکسی وار‘ یعنی درپردہ جنگ لڑ رہا ہے۔

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ پاکستان دراصل بھارت کے ساتھ باقاعدہ روایتی جنگ کی سکت نہیں رکھتا اسی لیے مسلح شدت پسندوں اور دراندازوں کی حمایت کر رہا ہے۔

پاکستان میں دفترخارجہ کی ترجمان نے اسی حوالے سے پاکستان کا موقف رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی باشندے خود ہی دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور اس جنگ میں 55 ہزار لوگوں نے اپنی زندگی قربان کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا یہ چھ ہفتوں میں کشمیر کا دوسرا دورہ تھا۔ چار جولائی کو انھوں نے جموں خطے میں اودھم پور کٹرہ ریلوے لائن کا افتتاح کیا تھا

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پوری دنیا یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں جبکہ 5000 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔‘

تر جمان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عسکری ادارے ملک کی سرحد کی حفاظت اور کسی بھی بیرونی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح مستعد اور تیار ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بد قسمتی کی بات ہے کہ یہ الزامات اس وقت آئے جب پاکستان نے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کا اظہار کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں ان کی دعوت پر وزیر اعظم نواز شریف نے مئی کے مہینے میں بھارت کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد ترجمان کے مطابق دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانا تھا۔

خارجہ امور کی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا کے اس خطے کی بہتری اسی میں یہ ہے کہ الزام تراشیوں کے بجائے ایک دوسرے سے بات چیت کی جائے اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔‘

اسی بارے میں