’بحریہ ٹاؤن کو سستی زمین دینے پر جواب طلب‘

Image caption عدالت نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ تحریری طور پر آگاہ کریں کہ کس قانون کے تحت سستی زمین کو مہنگی زمین میں منتقل کیا گیا

سپریم کورٹ نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن کو مہنگی زمین سستے دام دینے کے خلاف دائر درخواست پر متعلقہ حکام سے 15 روز کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ حکم محمود اختر نقوی نامی شہری کی درخواست پر جاری کیا جن کا موقف تھا کہ سپر ہائی وے پر بحریہ ٹاؤن کی تعمیر جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بحریہ ٹاؤن منصوبے کے لیے دور دراز کے علاقے کے لوگوں سے سستی زمین خرید کر اس کے بدلے شہر کے قریبی علاقے میں حکومت سے مہنگی زمین حاصل کی گئی ہے۔

درخواست گزار نے اس سودے کو فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی قانون میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

انھوں نے اس مبینہ فراڈ میں ملک ریاض کے ساتھ سینیئر ممبر ریونیو سندھ، ڈی سی ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کو بھی ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے مل کر 300 ارب رپوں کا گھپلا کیا ہے۔

عدالت نے بدھ کو حکم جاری کیا کہ متعلقہ حکام عدالت کو تحریری طور پر آگاہ کریں کہ کس قانون کے تحت سستی زمین کو مہنگی زمین میں منتقل کیا گیا۔

اسی بارے میں