عہد کریں کہ جمہوریت پر آنچ نہیں آنے دیں گے:نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اندرون ملک بھی امن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی سرحدوں پر بھی پائیدار امن چاہتے ہیں: نواز شریف

پاکستان کے وزیرِ اعظم نوازشریف نے ملک کے 68ویں یومِ آزادی کے موقع پر کہا ہے کہ قوم کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ آئین کی حکمرانی اور جمہوریت کے تسلسل پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسلام آباد میں پارلیمان کے باہر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس سال آزادی کی تقریبات کو شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب سے منسوب کیا گیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر براہِ راست نشر کی گئی تقریر میں وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ صبح آزادی کی روشنی ان ہی شہیدوں کے خون سے منور ہے جنھوں نے اس آزادی کے تحفظ اور دفاع پاکستان کے لیے اپنی جانیں دیں۔

شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ قوم اس کارروائی میں جانیں قربان کرنے والے افسران و جوانوں کو سلام پیش کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان دینے والے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکاروں کا لہو بھی رائیگاں نہیں جائے گا اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ قوم اپنے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی رکھتی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ وطن کے امن کی خاطر بےگھر ہونے والے شمالی وزیرستان کے لاکھوں افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی یہ قربانی قابلِ قدر ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت متاثرین کی بحالی اور ان کی جلدگھر واپسی کا عزم رکھتی ہے اور ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوتے ہی اس عمل کا آغاز کر دیا جائے گا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان زندگی کے ہر شعبے میں تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہو لیکن 68 برس میں اس مشن پر توجہ مرکوز نہ رہ سکی ’لیکن اس موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ آئین کی حکمرانی، قانون کی پاسداری اور جمہوریت کے تسلسل پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔‘

ہمسایہ ممالک سے تعلقات کی بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم اندرون ملک بھی امن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی سرحدوں پر بھی پائیدار امن چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے تعلقات میں نئی راہیں تلاش کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ہی وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ اس وقت چین کے سوا پاکستان کے کسی ہمسایہ ملک سے تعلقات باعثِ فخر نہیں۔

جشنِ آزادی کی مرکزی تقریب میں وزیراعظم کے علاوہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اہم سیاسی، سفارتی اور عسکری شخصیات شریک ہوئیں۔

اس تقریب میں پاکستانی افواج کے دستوں نے پریڈ کی جبکہ فضائیہ کی جانب سے فلائی پاس بھی کیا گیا جبکہ تقریب کا اختتام آتش بازی کے مظاہرے پر ہوا۔

اسی بارے میں