فضائی اڈوں پر حملوں کی کوشش، ’دس حملہ آور ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی جی بلوچستان نے کہا کہ حملہ آور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے اور حفاظتی باڑ کاٹ کر اڈوں میں داخل ہوئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سمنگلی ایئر بیس اور خالد ایئر بیس کے قریب حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان دو مختلف جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے میں دس حملہ آور ہلاک اور سات سکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

بلوچستان پولیس کے انسپکٹر جنرل محمد عملیش نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

کوئٹہ کے شمال مشرقی علاقے میں واقع آرمی ایوی ایشن کی خالد ایئر بیس اور جنوب مغرب میں واقع سمنگلی ایئر بیس کے قریب جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب زور دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئیں۔

آئی جی بلوچستان نے کہا کہ حملہ آور بھاری ہتھیاروں سے لیس تھے اور حفاظتی باڑ کاٹ کر اڈوں میں داخل ہوئے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق خالد ایئر بیس اور سمنگلی ایئر بیس کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے۔

ان حملوں کے حوالے سے بی بی سی کو انسپکٹر جنرل پولیس محمد عملیش نے بتایا کہ شہر میں سکیورٹی پہلے سے ہائی الرٹ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خالد ایئر بیس کے قریب پولیس اہلکاروں نے دو مسلح حملہ آوروں کی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد اعلیٰ حکام کو اطلاع دے دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اطلاع کے بعد ان حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی گئی جس میں دونوں حملہ آور ہلاک ہوگئے۔ آئی جی پولیس کے مطابق اس علاقے سے چار بم بھی ملے جن کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی دیگر حملہ آوروں نے سمنگلی ایئر بیس پر بھی حملے کی کوشش کی۔ آئی جی پولیس نے بتایا کہ اس علاقے میں دوخود کش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جبکہ دو دیگر حملہ آوروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا۔

آئی جی پولیس نے بتایا کہ سیکورٹی ہائی الرٹ ہونے کی وجہ سے حملہ آور دونوں ایئر بیسوں میں داخل نہیں ہو سکے اور ان کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے رات گئے سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بارے میں بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں مجموعی طور پر چھ حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز کے سات اہلکار زخمی ہوئے جن میں پولیس کے چار، آرمی کے دو اور ایف سی کا ایک اہلکار شامل ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ سب سے خوش آئند بات یہ ہے اور پاکستان کے عوام کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ تھیں اور انھوں نے جوان مردی سے مقابلہ کر کے حملے کو ناکام بنایا۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں دونوں ایئر بیسوں اور وہاں موجود کسی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔

اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’کوئی دہشت گرد بیس میں داخل نہیں ہو سکا اور نہ ہی بیس کا کوئی اہلکار زخمی ہوا ہے۔ حملہ آوروں نے متعدد راکٹ داغے جن میں سے دو بیس کے اندر گرے جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔‘

انھوں نے ٹوئٹر پر ہی ایک اور پیغام میں کہا ’سمنگلی بیس سے دور فرار ہوتے ہوئے دہشت گردوں کو پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کا سامنا ہوا ہے۔ بیس فائرنگ کی زد میں نہیں تھا۔ تمام صورتحال قابو میں ہے۔‘

سرفراز بگٹی نے کہا کہ صبح کی روشنی تک اس آپریشن کومکمل کر لیا جائے گا۔

ایک اور سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئٹہ کے دونوں ایئر بیسوں حملہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے خلاف رد عمل ہوسکتا ہے۔

شدید فائرنگ کے علاوہ سمنگلی ایئر بیس اور خالد ایئر بیس کے قریب ان حملوں کے نتیجے میں دس سے زیادہ چھوٹے اور بڑے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

دونوں ایئر بیسوں کے قرب و جوار کے علاقوں میں جھڑپوں کے بعد کوئٹہ شہر کی فضائی حدود میں طیاروں کی پروازیں بھی جاری رہیں۔

ان دھماکوں اور فائرنگ کی آواز کے بعد ایئرپورٹ اور سمنگلی کے گردونواح کے علاقوں کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

اسی بارے میں