ماورائے آئین اقدام آئین سے غداری ہو گی: سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کو روکنے کے لیے دائر کی گئی درخواست پر عبوری حکم میں کہا ہے کہ کوئی بھی ریاستی ادارہ یا اہلکار ماورائے آئین اقدام کرے تو یہ آئین سے غداری ہو گی۔

عبوری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی ادارے اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ادا کریں۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس خود کر رہے ہیں جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس مشیر عالم، جسٹس آصف سعید کھوسہ اس بینچ میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ یہ درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ نے دائر کی تھی۔

اس سے قبل درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوئی طالع آزما دوبارہ جمہوری حکومت پر شب خون مار کر اقتدار پر قبضہ نہ کر لے۔

اس موقع پر بینچ میں موجود جسسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ غالباً درخواست گزار کا اشارہ فوج کی جانب ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی جمہوری حکومتوں پر شب خون مارا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات اور تھے اور آج اور ہیں۔

سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں سے ملک کے حالات نازک ہیں اور انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ سے استدعا کی کہ وہ حکم جاری کریں کہ کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہ کیے جائیں اور کوئی مجاز اتھارٹی اور ریاستی ادارے کسی بھی صورت میں ماروائے آئین اقدام نہ اُٹھائیں۔

اس درخواست کی سماعت کے لیے چیف جسٹس ناصر الملک نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کو روکنےکے لیے دائر کی گئی درخواست پر ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں سیاسی حلقوں اور مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی ریاستی ادارے کی جانب سے ماورائے آئین اقدام کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

یاد رہے کہ دو نومبر2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار وجیہ الدین کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے ایک درخواست دائر کی تھی کہ ملک میں بعض ریاستی ادارے ماورائے آئین اقدام کر سکتے ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک لارجر بینچ نے اس درخواست کی سماعت پانچ نومبر کے لیے مقرر کی تھی تاہم اس درخواست کی سماعت سے قبل ہی تین نومبر کو پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی عائد کر دی گئی تھی۔