’یار یہاں تو بڑا ماحول ہے، عمران آئے گا زیادہ مزا آئے گا‘

Image caption ۔۔۔’ عمران خان بدعنوان نہیں، یہ ہی بڑی بات ہے‘

اسلام آباد میں آبپارہ فوجی آمر مشرف کے دور میں لال مسجد کی وجہ سے کئی روز سے میڈیا پر چھایا ہوا تھا آج کل یہ علاقہ آزادی اور انقلاب مارچ کی وجہ سے24/7 میڈیا پر ہے۔

لال مسجد سے چند قدم کے فاصلے پر عوامی تحریک کے کارکنوں واک پھرو گیٹ پر سکیورٹی انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔گیٹ سے تلاشی کے بعد سب سے پہلے نظر عوامی تحریک کے تھکے ہارے کارکنوں پر پڑی اور ڈاکٹر طاہر القادری کا مختلف دینی حوالوں کی مدد سے سیاسی خطاب بھی جاری تھا۔

یہاں پڑے لوگ خطاب کے دوران نواز شریف یا گلو بٹ کا نام آتے ہی تھوڑا متحرک ہوتے تھے۔

اس سے آگے چند قدم کے فاصلے پر میڈیا کی لائیو کوریج کی گاڑیاں کا ہجوم تھا۔ ساتھ میں ہی ایک کنٹینر پر بنے سٹیج پر عوامی تحریک کے سکیورٹی اہلکاروں، دیگر قیادت اور چند ایک صحافیوں کے درمیان گھرے ڈاکٹر طاہر القادری خطاب کر رہے تھے۔

اسی دوران کسی نے طاہر القادری کو اطلاع دی کہ پستول بردار ایک مسلح شخص کو پکڑا ہے تو اس پر ڈاکٹر قادری نے فوراً کہا کہ ایک گلو بٹ پکڑا گیا ہے۔

’اسے نقصان نہیں پہنچانا اور میرے سامنے لایا جائے۔‘

Image caption آزادی مارچ میں نجی ایمبولینس گاڑیوں بھی موجود ہیں

اس کے بعد ایک طرف سے شور شرابہ ہوا اور افراتفری کے عالم میں پینٹ شرٹ میں ملبوس فوجی طرز کے ہیئر کٹ کے ایک نڈھال شخص کوسٹیج پر لایا گیا اور سٹیج پر ’چھوڑ دو‘ اور ’پکڑ لو‘ کے شور میں ڈاکٹر قادری نے اس شخص کو معاف کرنے اور نیک عوام کی تقلین کرتے اور بحفاظت جانے کا ضمانت دیتے ہوئے جانے کی اجازت دے دی۔

اس شخص کو لفٹر کی مدد سے جیسے ہی نیچے اتارا گیا تو کارکنوں نے ایک گروپ نے مارنا شروع کر دیا تو دوسرے نے اسے بچانا شروع کر دیا۔ جیت بچانے والے گروپ کی ہوئی اور اس شخص کو کارکن پکڑ کر ایک طرف لے گئے۔

اس میں دلچسپ بات یہ تھی کہ جلوس سے ایک مسلح شخص کے پکڑے جانے کی اطلاع پر سکیورٹی اہلکار کا ردعمل یا اس سارے معاملے میں فوری مداخلت دور دور تک نظر نہیں آئی۔

سٹیج کے قریب میں عوامی تحریک کی خاتون ورکرز جمع تھیں۔ اور انھوں نے بھی اپنے اردگرد ڈنڈوں کی مدد سے سکیورٹی حصار بنا رکھا تھا۔ ہاتھ میں میڈیا کارڈ ہونے کی وجہ سے اس حصار میں سے یک دم ایسے راستہ بنتا جیسے الیکڑانک گیٹ پر لگے سنسرز کی وجہ سے اس دروازے کے قریب جانے سے دروازہ جھٹ سے کھل جاتا ہے۔

جیسے ہی حصار میں راستہ بنا تو وہاں خواتین کے ایک گروپ سے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں تو جواب ملا منڈی بہاؤالدین سے آئے۔

Image caption طاہر القادری کے انقلاب مارچ میں خواتین کا خاصی تعداد موجود ہے

ڈاکٹر قادری کے ساتھ اتنا دور آنے کی وجہ کیا ہے اور وہ کیا مطالبات ہیں کہ یہاں تک چلے آئے تو جواب ملا۔’ بس ان کا حکم تھا۔ اس کے علاوہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ابھی انھوں نے تین دن رکنے کا کہا ہے، اگر زیادہ کہا تو رک جائیں گے۔ اس کے علاوپ آپ کے کوئی مطالبات، جواب ملا بس حکم تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

یہ منظر نامہ خیابان سہروردی کا تھا۔ اس سے ایک لنک روڑ کشمیر روڑ پر پہنچا دیتی ہے جہاں آزادی مارچ ہے۔ انقلاب اور آزادی مارچ کو تقسیم خاردار تاریاں کرتی ہیں جن کو ایک پانچ سال کا بچہ بھی آرام سے پار کر سکتا ہے۔ لیکن اس لائن آف کنٹرول کا احترام اتنا زیادہ تھا کہ آزادی اور انقلاب کا کوئی کارکن اس کو پار کرتا نظر نہیں آیا۔

اس سے آگے تحریک انصاف کے کارکنوں کشمیر ہائی وے پر فلیگ مارچ کرتے نظر آتے ہیں مطلب سڑک کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے، بیچ میں رک کر کچھ کھا پی لیا، گپ شب کی اور پھر آگے چل پڑے، تحریک انصاف کے گانوں پر تھوڑا جھوم لیا اور پھر آگے۔

Image caption یہ بچے اسلام آباد کے رہائشی ہیں اور اپنے والد کے ساتھ عمران خان کو دیکھنے آئے ہیں

ساتھ سٹیج پر حکمرانوں کے خلاف، کریشن کے خلاف نعرے بلند ہوتے رہے لیکن ان نعروں کا جواب دینے میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

سٹیج کے کچھ فاصلے پر عارضی ٹوائلٹس کو نصب کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ گدشتہ رات ہی عارض ٹوائلٹس نصب ہونا شروع ہو گئے تھے اور یہ سلسلہ سنیچر کی شام تک جاری تھا۔

قریب ہی پی ٹی آئی کے جھنڈے اٹھائے باتیں کرتے کچھ نوجوان کہہ رہے تھے کہ اس آزادی مارچ کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔ میں نے فوراً ان سے پوچھا کہ بائیکاٹ؟ تو انھوں نے تھوڑا سوچ کر کہا ’نہیں ایسا نہیں ویسے ہی گھومنے جا رہے ہیں اور تھوڑا دیکھ لیں گے کہ کل رات سے دس لاکھ لوگوں کی یہاں موجودگی کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں وہ کہاں ہیں اور تھوڑی کوشش کر کے گنتی بھی کر لیں۔‘

ان میں سے ایک نوجوان نے پوچھا کہ ویسے آپ کا کیا خیال ہے کہ کتنے لوگ ہوں گے میرے جواب سے پہلے ہی اس کے دوسرے ساتھی نے کہا کہ ’دونوں کو ملا کر 70 ہزار تو ہوں گے‘۔ ساتھ کھڑے تیسرے نوجوان نے کہا کہ ’یار چپ کر سیاست میں ایسے ہی ہوتا ہے۔‘

Image caption انقلاب اور آزادی مارچ میں عوام کو روزگار دینے کے نعرے بلند کیے جا رہے ہیں۔ یہ وعدے کبھی پورے ہوں گے کسی کو معلوم نہیں لیکن ان لوگوں کو آمدن میں اضافے کا موقع زور ملا ہے

ساتھ ہی بارش کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے تو سٹیج پر موجود افراد نے حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی روک کر فوراً اعلانات کرنا شروع کر دیے، سپیکرز کا خاص خیال کریں، جتنی بارش بھی ہو سپیکرز بند نہیں ہونے چاہیے سب کو آواز خاص کر میڈیا تک آواز ہر صورت جانی چاہیے۔

قریب میں ایک ایک عمر رسیدہ خاتون اپنے خاندان کے ساتھ گھاس پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان سے پوچھ کہ کہاں سے آئیں ہیں تو جواب ملا کہ پشاور سے اور وہ بھی چار دن پہلے اور اسلام آباد کے ڈی ایچ اے یعنی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ٹھہری ہیں۔ اور عمران کے لیے یہاں آئی ہیں۔

عمران خان کی خیبر پختونخوا میں کارکردگی سے مطمئن ہیں تو جواب ملا ’ہاں مطمئن ہیں، لیکن سب سے بڑھ کر وہ بدعنوان نہیں ہیں، کھاتا نہیں، کرپشن نہیں کرتا۔‘

’ہمارے صوبے میں ترقیاتی کام کرائے گا، پنجاب والوں نے پنجاب کو بنا لیا، سندھ نے بھی خود کو کسی حد تک سنبھال لیا، رہ گئے تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہیں، جہاں بے روز گاری اور دیگر سہولتیں سب سے کم ہے۔ غربت کی وجہ سے ہمارے صوبے میں لوگ زیادہ بجلی چوری کرتے ہیں۔‘

Image caption ’اپنا انتظام خود کرنا ہے۔ پوسٹر اس سے اتارا کے بارش میں کام آئے گا‘

اسی دوران ہلکی بارش شروع ہو گئی تو تحریک انصاف کے نوجوانوں نے سائنز بورڈز پر گاڑیوں پر لگے پوسٹر اکھاڑنا شروع کر دیے۔ کراچی سے آنے والے نوجوان سے پوچھا کہ پوسٹر کیوں اکھاڑا تو جواب دیا، پاس رکھوں گا بارش میں کام آئے گا، بارش میں پارٹی نے انتظام کیوں نہیں کیا تو جواب دیا پارٹی کیا کرتی ہے وہ تو مانگتی ہے، سب کچھ خود کرنا پڑا ہے۔

اسی دوران بارش شروع ہوئی اور دونوں مارچوں کے درمیان مختصر سے لائن آف کنٹرول عبور کی تو تھکے ہارے لوگ بارش کی وجہ سے کھڑے تھے اور پہلے سے زیادہ ڈاکٹر قادری کی ہاں میں ہاں اور اور ان خطاب کے دوران نعرے لگا رہے تھے۔ ایسے ہی ایک شخص سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا ایجنڈا بیان کر دیا ہے، تو جواب ملا ہاں کر دیا ہے۔ کیا کہاں ’وہ تو مجھے معلوم نہیں، کیا کہاں۔‘

اسی طرح سٹیج کے قریب عوامی تحریک کے جھنڈوں اور ڈاکٹر قادری کے بیج لگائے دو افراد میں سے ایک سے پوچھا کہ ڈاکٹر قادری نے تقریر میں کیا کہا، تو خاموش ہو کر سوچنے لگے، سوچنے کا عمل طویل ہوا تو دوسرے شخص نے فوراً کہا ’ہمیں کیا معلوم ہم تو سکیورٹی پر ہیں‘۔

ایک دوسرے گروپ سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ برطانیہ سے آئے ہیں اور ڈاکٹر قادری کے مرید ہیں۔ دس نکاتی ایجنڈے کے بارے میں پوچھا تو تین میں سے دو کے پاس جواب نہیں تھا۔ ایک نے بتانا شروع کیا، سستی تعلیم سب کے لیے، مکانات سب سے کے لیے، پچاس ہزار سے کم آمدن والے افراد کے بجلی کی قیمت نصب، ۔۔۔۔ دوسرے، تو اس نے باقیوں کی جانب دیکھ کر کہا ابھی تک اتنے ہی یاد ہیں، آپ کو کچھ یاد ہوں تو بتا دیں۔‘

انقلاب اور آزادی مارچ کے نام پر اسلام آباد میں سیاسی اجتماع کی وجہ سے لوگوں کو وقت گزارنے کا ایک اچھا موقع بھی ملا ہے۔ آزادی مارچ میں گھومتے ہوئے پیچھے چلتے دو افراد کی گفتگو سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

’یار یہاں تو بڑا ماحول ہے، ہاں یار چل روٹی کھا آئیں پھر آتے ہیں، عمران بھی آ جائے گا اور اس سے زیادہ مزا آئے گا۔‘

اسی بارے میں